سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 345 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 345

سیرت المہدی 345 حصہ دوم ملنے کے لئے مسجد میں تشریف لائے۔ان دوستوں نے عرض کیا کہ ہم سب روزے سے ہیں۔آپ نے فرمایا۔سفر میں روزہ ٹھیک نہیں اللہ تعالیٰ کی رخصت پر عمل کرنا چاہیے۔چنانچہ ان کو ناشتہ کروا کے ان کے روزے نڑ وادیئے۔382 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو صفائی کا بہت خیال ہوتا تھا۔خصوصاً طاعون کے ایام میں اتنا خیال رہتا تھا کہ فینائل لوٹے میں حل کر کے خود اپنے ہاتھ سے گھر کے پاخانوں اور نالیوں میں جا کر ڈالتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ بعض اوقات حضرت مسیح موعود علیہ السلام گھر میں ایندھن کا بڑا ڈھیر لگوا کر آگ بھی جلوایا کرتے تھے تا کہ ضرر رساں جراثیم مر جاویں اور آپ نے ایک بہت بڑی آہنی انگیٹھی بھی منگوائی ہوئی تھی۔جسے کو ملے ڈال کر اور گندھک وغیرہ رکھ کر کمروں کے اندر جلایا جاتا تھا اور اس وقت دروازے بند کر دئیے جاتے تھے۔اس کی اتنی گرمی ہوتی تھی کہ جب انگیٹھی کے ٹھنڈا ہو جانے کے ایک عرصہ بعد بھی کمرہ کھولا جاتا تھا تو پھر بھی وہ اندر سے بھٹی کی طرح نپتا تھا، نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ انبیاء کی عجیب شان ہوتی ہے کہ وہ ایک طرف تو اسباب کی اتنی رعایت کرتے ہیں کہ دیکھنے والے کو یہ شبہ ہونے لگتا ہے کہ ان کی نظر میں انہی اسباب کے ہاتھ میں سارا قضاء وقدرکا معاملہ ہے اور اگر ان کی رعایت نہ رکھی گئی تو پھر کام نہیں بن سکتا اور دوسری طرف ان کو خدا کی ذات پر اس درجہ تو کل ہوتا ہے کہ اسباب کو وہ ایک مردہ کیڑے کی طرح سمجھتے ہیں اور ایک سطحی نظر رکھنے والا انسان اس حالت کو دیکھ کر حیرانی میں پڑ جاتا ہے لیکن دراصل بات یہ ہوتی ہے کہ جس قدر بھی رعایت وہ اسباب کی رکھتے ہیں وہ اس لئے نہیں ہوتی کہ اسباب کے ہاتھ میں کوئی قضاء وقدر کی چابیاں ہیں بلکہ اس لئے ہوتی ہیں کہ اسباب خدا کے پیدا کردہ ہیں اور خدا کا احترام یہ چاہتا ہے بلکہ یہ خدا کا حکم ہے کہ اس کے پیدا کردہ اسباب کی رعایت ملحوظ رکھی جاوے۔پس چونکہ وہ خدا تعالیٰ کے احکام کی اطاعت میں سب سے اعلیٰ مقام پر کھڑے ہوتے ہیں اس لئے اسباب کی رعایت رکھنے میں بھی وہ دوسروں سے فائق نظر آتے ہیں۔لیکن اصل بھروسہ ان کا خدا کی ذات کے سوا اور کسی چیز پر نہیں ہوتا اور دراصل یہی وہ تو حید کا