سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 340
رت المهدی 340 حصہ دوم کہ داڑھی منڈوائی نہ جاوے بلکہ رکھی جاوے لیکن داڑھی کا بہت زیادہ لمبا کرنا بھی پسند نہیں کیا گیا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ ایک مشت و دو انگشت کے اندازہ سے زیادہ بڑھی ہوئی داڑھی کتر واد ینی مناسب ہے۔جس کی وجہ غالبا یہ ہے کہ بہت لمبی داڑھی بھی خلاف زینت ہوتی ہے۔اور اس کا صاف رکھنا بھی کچھ دقت طلب ہے۔مگر اس کے مقابلہ میں داڑھی کو ایسا چھوٹا کتروانا بھی کہ وہ منڈھی ہوئی کے قریب قریب ہو جاوے آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے احترام کے خلاف ہے جو ایک مخلص مسلمان کی شان سے بعید سمجھا جانا چاہیے۔372 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سُنا ہے کہ مجھے ہسٹیریا ہے۔بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے لیکن دراصل بات یہ ہے کہ آپ کو دماغی محنت اور شبانہ روز تصنیف کی مشقت کی وجہ سے بعض ایسی عصبی علامات پیدا ہو جایا کرتی تھیں جو ہسٹیریا کے مریضوں میں بھی عموماً دیکھی جاتی ہیں۔مثلا کام کرتے کرتے یکدم ضعف ہو جانا۔چکروں کا آنا۔ہاتھ پاؤں کا سرد ہو جانا۔گھبراہٹ کا دورہ ہو جانا یا ایسا معلوم ہونا کہ ابھی دم نکلتا ہے یا کسی تنگ جگہ یا بعض اوقات زیادہ آدمیوں میں گھر کر بیٹھنے سے دل کا سخت پریشان ہونے لگنا وغیر ذالک۔یہ اعصاب کی ذکاوت حس یا تکان کی علامات ہیں اور ہسٹیریا کے مریضوں کو بھی ہوتی ہے اور انہی معنوں میں حضرت صاحب کو ہسٹیریا یا مراق بھی تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ دوسری جگہ جو مولوی شیر علی صاحب کی روایت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ یہ جو بعض انبیاء کے متعلق لوگوں کا خیال ہے کہ ان کو ہسٹیریا تھا یہ ان کی غلطی ہے بلکہ حق یہ ہے کہ جس کی تیزی کی وجہ سے ان کے اندر بعض ایسی علامات پیدا ہو جاتی ہیں جو ہسٹیریا کی علامات سے ملتی جلتی ہیں۔اس لئے لوگ غلطی سے اسے ہسٹیر یا سمجھنے لگ جاتے ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت صاحب جو کبھی کبھی یہ فرما دیتے تھے کہ مجھے ہسٹیریا ہے یہ اسی عام محاورہ کے مطابق تھاور نہ آپ علمی طور پر یہ سمجھتے تھے کہ یہ مسٹر یا نہیں۔بلکہ اس سے ملتی جلتی علامات ہیں جو ذکاوت حس یا شدت کار کی وجہ سے پیدا ہوگئی ہیں۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ