سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 341
سیرت المہدی 341 حصہ دوم ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب ایک بہت قابل اور لائق ڈاکٹر ہیں۔چنانچہ زمانہ طالب علمی میں بھی وہ ہمیشہ اعلیٰ نمبروں میں کامیاب ہوتے تھے اور ڈاکٹری کے آخری امتحان میں تمام صوبہ پنجاب میں اول نمبر پر رہے تھے اور ایام ملازمت میں بھی ان کی لیاقت و قابلیت مسلم رہی ہے۔اور چونکہ بوجہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بہت قریبی رشتہ دار ہونے کے ان کو حضرت صاحب کی صحبت اور آپ کے علاج معالجہ کا بھی بہت کافی موقعہ ملتا رہتا تھا اس لئے ان کی رائے اس معاملہ میں ایک خاص وزن رکھتی ہے جو دوسری کسی رائے کو کم حاصل ہے۔373 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں گھر کے بچے کبھی شب برات وغیرہ کے موقع پر یونہی کھیل تفریح کے طور پر آتش بازی کے انار وغیرہ منگا کر چلا لیا کرتے تھے۔اور بعض اوقات اگر حضرت صاحب موقعہ پر موجود ہوں تو یہ آتش بازی چلتی ہوئی آپ خود بھی دیکھ لیتے تھے۔نیز حضرت خلیفہ اسیح ثانی بیان کرتے تھے کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ گھر میں آتش بازی کے انار وغیرہ چلا نا طاعونی مادہ کو مارنے اور ہوا کی صفائی کے لئے مفید ہوتا ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ہم بچپن میں بعض اوقات آتش بازی کی اس قسم کی غیر ضرر رساں چیزیں جیسے انار ہوتا ہے منگا کر گھر میں چلا لیتے تھے اور حضرت صاحب دیکھتے تھے اور منع نہیں فرماتے تھے بلکہ بعض دفعہ ان چیزوں کے منگانے کے لئے ہم حضرت صاحب سے پیسے مانگتے تھے تو آپ دے دیتے تھے۔374 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ان کے چا چوہدری شیر محمد صاحب مرحوم ان سے بیان کرتے تھے کہ جب حضرت صاحب دہلی تشریف لے گئے تھے اور وہاں کی جمعہ مسجد میں مولوی نذیر حسین صاحب کے ساتھ مباحثہ کی تجویز ہوئی تھی تو اس وقت میں بھی حضرت صاحب کے ساتھ تھا۔چونکہ شہر میں مخالفت کا خطرناک زور تھا اور حضرت صاحب کے اہل وعیال بھی سفر میں ساتھ تھے۔اس لئے حضرت صاحب مباحثہ کی طرف جاتے ہوئے مکان کی حفاظت کے لئے مجھے ٹھہرا گئے تھے