سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 28
سیرت المہدی 28 حصہ اوّل اس تمام خاندان میں سوائے ایک بچہ کے اور کوئی مرد نہیں اور وہ بچہ بھی احمدی ہو چکا ہے۔اسکے علاوہ مرزا امام الدین کی لڑکی بھی عرصہ ہوا احمدی ہو چکی ہے۔پھر محمدی بیگم کی ماں یعنی بیوہ مرزا احمد بیگ اور مرزا احمد بیگ کا پوتا اور ہماری تائی یعنی محمدی بیگم کی خالہ سب سلسلہ بیعت میں داخل ہو چکے ہیں نیز محمدی بیگم کی سگی ہمشیرہ بھی احمدی ہوگئی تھی مگر اب فوت ہو چکی ہے ان کے علاوہ اور کئی رشتہ دار بھی احمدی ہو چکے ہیں اور جو ابھی تک سلسلہ میں داخل نہیں ہوئے وہ بھی مخالفت ترک کر چکے ہیں۔اور حضرت مسیح موعود کا یہ الہام کہ ہم اس گھر میں کچھ سنی طریق پر داخل ہونگے اور کچھ حسینی طریق پر۔اپنی پوری شان میں پورا ہوا ہے۔38 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے اس حجرہ میں کھڑے تھے جو عزیزم میاں شریف احمد کے مکان کے ساتھ ملحق ہے۔والدہ صاحبہ بھی غالبا پاس تھیں۔میں نے کوئی بات کرتے ہوئے مرزا نظام الدین کا نام لیا تو صرف نظام الدین کہا حضرت مسیح موعود نے فرمایا میاں آخر وہ تمہارا چچا ہے اس طرح نام نہیں لیا کرتے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مرزا امام الدین اور مرزا نظام الدین اور مرزا کمال الدین حضرت مسیح موعود کے حقیقی چا مرزا غلام محی الدین صاحب کے لڑکے تھے اور ان کی سگی بہن جو ہماری تائی ہیں ہمارے تایا مرزا غلام قادر صاحب کے عقد میں آئی تھیں مگر باوجود ایسی قریبی رشتہ داری کے حضرت صاحب سے ان کو سخت مخالفت تھی جس کی بنیاد زیادہ تر دینی تھی۔یہ لوگ سخت دنیا دار اور بے دین تھے بلکہ مرزا امام الدین جو سر گر وہ مخالفت تھا اسلام سے ٹھٹھا کیا کرتا تھا۔اس وجہ سے ہمارا ان کے ساتھ کبھی راہ و رسم نہیں ہوا۔اسی بے تعلقی کے اثر کے نیچے میں نے صرف نظام الدین کا لفظ بول دیا تھا مگر حضرت صاحب کے اخلاق فاضلہ نے یہ بات گوارا نہ کی۔39 بسم الله الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ میں نے سنا کہ مرزا امام الدین اپنے مکان میں کسی کو مخاطب کر کے بلند آواز سے کہ رہا تھا کہ بھئی (یعنی بھائی ) لوگ (حضرت صاحب کی طرف اشارہ تھا ) کا نہیں چلا کر نفع اٹھارہے ہیں ہم بھی کوئی دوکان چلاتے ہیں۔والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ پھر اس نے چوہڑوں کی پیری کا سلسلہ جاری کیا۔والدہ صاحبہ نے فرمایا اصل اور بڑا