سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 29 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 29

سیرت المہدی 29 حصہ اوّل مخالف مرزا امام الدین ہی تھا اس کے مرنے کے بعد مرز انظام الدین وغیرہ کی طرف سے ویسی مخالفت نہیں رہی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مرزا امام الدین کی لڑکی جو مرزا سلطان احمد صاحب کے عقد میں ہیں اب ایک عرصہ سے احمدی ہو چکی ہیں۔40 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا ہم سے قاضی امیر حسین صاحب نے کہ ایک دفعہ خوا جہ کمال الدین صاحب سے میرا کوئی جھگڑا ہو گیا۔خواجہ صاحب نے مجھے کہا قاضی صاحب کیا آپ جانتے نہیں کہ حضرت صاحب میری کتنی عزت کرتے ہیں؟ میں نے کہا ہاں میں جانتا ہوں کہ بہت عزت کرتے ہیں مگر میں آپ کو ایک بات سناتا ہوں اور وہ یہ کہ میں ایک دفعہ امرتسر سے قادیان آیا اور حضرت صاحب کو اطلاع دے کر حضور سے ملا۔قاضی صاحب کہتے ہیں کہ اس وقت تک ہم لوگوں نے تہذیب نہیں سیکھی تھی۔جب ملاقات کرنی ہوتی تھی حضرت صاحب کو اطلاع دے کر اندر سے بلالیا کرتے تھے یا حضرت صاحب خودسن کر باہر آ جاتے تھے بعد میں یہ بات نہیں رہی اور ہم نے سمجھ لیا کہ رسول کو اس طرح نہیں بلانا چاہئیے۔خیر میں حضور سے ملا۔آپ نے شیخ حامد علی کو بلا کر حکم دیا کہ قاضی صاحب کے واسطے چائے بنا کر لاؤ۔مگر میں اس وقت بہت ڈرا کہ کہیں یہ خاطر تواضع اس طریق پر نہ ہو جس طرح منافقوں اور کمزور ایمان والوں کی کی جاتی ہے۔اور میں نے بہت استغفار پڑھا۔یہ قصہ سنا کر میں نے خواجہ صاحب سے کہا کہ خوا جہ صاحب آپ کی عزت بھی کہیں اسی طریق کی نہ ہو۔چنانچہ میں آپ کو سناتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی آتا ہے کہ آپ کمزور ایمان والوں اور منافقوں کی بہت خاطر تواضع کیا کرتے تھے چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ آپ نے کچھ مال تقسیم کیا مگر ایک ایسے شخص کو چھوڑ دیا جس کے متعلق سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں کہ وہ میرے خیال میں مومن تھا اور ان لوگوں کی نسبت زیادہ حقدار تھا جن کو آپ نے مال دیا چنانچہ سعد نے اس کی طرف آپ کو توجہ دلائی مگر آپ خاموش رہے۔پھر توجہ دلائی مگر آپ خاموش رہے۔سعد نے پھر تیسری دفعہ آپ کو توجہ دلائی اس پر آپ نے فرمایا سعد تو ہم سے جھگڑا کرتا ہے۔خدا کی قسم بات یہ ہے کہ بعض وقت میں کسی شخص کو کچھ دیتا ہوں حالانکہ غیر اس کا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہوتا ہے مگر میں