سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 329
سیرت المہدی 329 حصہ دوم مسلمانوں کا حال ہوا یعنی علم توجہ کے نتیجہ میں جو ایک خمار اور سرور کی حالت عموما معمول کے اندر پیدا ہو جاتی ہے اسی کو وہ اپنی روحانی غذا سمجھنے لگ گئے اور اصل خوراک کو جو ان کی روح کا حصہ بن سکتی اور اس کی بقا کا وجب ہے بھلا دیا_فانا لله و انا اليه راجعون۔357 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعویٰ مسیحیت اور مہدویت کا اعلان فرمایا تو اس سے اسلامی دنیا میں ایک خطر ناک شور برپا ہو گیا اور چند سال تک یہ طوفان بے تمیزی ترقی کرتا گیا اور مخالفت کی آگ زیادہ تیز ہوتی گئی اور نہ صرف مسلمان بلکہ آریہ اور عیسائی بھی یکجان ہو کر آپ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ کے خلاف اس قدر زہر اگلا گیا اور اس قدر بد زبانی سے کام لیا گیا کہ اللہ کی پناہ اور عملی طور پر بھی ایذا رسانی اور تکلیف دہی کے شرمناک طریق اختیار کئے گئے اور لوگوں کو آپ کی طرف سے بدظن کرنے کیلئے طرح طرح کے الزامات آپ کے خلاف لگائے گئے اور آپ کو کافر، مرتد، دجال، بے دین ، دہریہ، دشمن اسلام، دشمن رسول ٹھگ باز ، دوکاندار وغیرہ وغیرہ کے الفاظ سے یاد کیا گیا۔ان حالات میں آپ نے جن الفاظ میں علیحدگی میں بیٹھے ہوئے اپنے رب کو مخاطب کیا وہ میں درج ذیل کرتا ہوں۔یہ ایک نظم ہے جو آپ کی زبان سے جاری ہوئی اور جس میں آپ کی قلبی کیفیات کا کچھ تھوڑا خا کہ ہے، آپ فرماتے ہیں:۔اے قدیر و خالق ارض و سما اے رحیم و مهربان و رہنما اے کہ میداری تو بردلہا نظر اے کہ از تو نیست چیزے مُستر گر تو می بینی مرا پر فسق و شر گر تو دیدستی که هستم بد گہر پاره پاره گن من بدکار را شاد کن این زمرہ اغیار را بر دل شاں ابر رحمت ہا بیار ہر مرادشاں بفضل خود برآر آتش افشاں بر در و دیوار من دشمنم باش و تبه کن کار من بندگانت یافتی قبله من آستانت در مرا از یافتی