سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 327
سیرت المہدی 327 حصہ دوم فیضان جوان تک پہنچ سکتا تھا ان تک پہنچنے سے رکا رہتا ہے اور بعض وقت غفلت ایسی غالب ہوتی ہے کہ انسان یہ خیال نہیں کرتا کہ خود میری کھڑکیاں اور دروازے بند ہیں۔بلکہ یہ سمجھنے لگ جاتا ہے کہ باہر سے روشنی ہی نہیں آرہی اور اس طرح بجائے اپنی اصلاح کی فکر کرنے کے منبع فیض کی فیض رسانی پر حرف گیری کرنے لگ جاتا ہے۔حالانکہ ایسے وقت میں چاہیے کہ انسان اپنی فکر کرے اور اپنے دل کی کھڑکیاں کھولے تا کہ آفتاب ہدایت کی روشنی اور دھوپ اس کے اندر داخل ہو کر اس کی تاریکیوں کو دور اور اس کی آلائشوں کو صاف کر سکے مگر کیا ہی بد قسمت ہے وہ شخص جس نے یہ تو دیکھا اور سمجھا کہ سورج طلوع کر چکا ہے۔لیکن اس نے اپنے دل کی کھڑکیاں نہ کھولیں اور اسی خیال میں اپنی عمر گزار دی کہ سورج کی روشنی میں کچھ نقص ہے کہ وہ مجھ تک نہیں پہنچتی۔دوسری وجہ یہ ہوتی ہے کہ ایک طرف تو لوگ منہاج نبوت سے نا واقف ہوتے ہیں اور بوجہ بعد از زمانہ نبوت نبیوں کے حالات اور ان کے طرز طریق اور ان کے فیض رسانی کی صورت سے نا آشنا ہوتے ہیں اور دوسری طرف فقیروں اور ولیوں کے متعلق انہوں نے ایسے ایسے قصے اور حالات سنے اور پڑھے ہوتے ہیں جو گو محض فرضی اور جھوٹے ہوتے ہیں مگر وہ ان کے اندر ولائت کا ایک معیار قائم کر دیتے ہیں جس کے مطابق وہ پھر دوسروں کو پر کھتے ہیں اور اس کے مطابق نہ پانے پر شکوک وشبہات میں مبتلا ہونے لگ جاتے ہیں۔مثلاً فرض کرو کہ کسی نے یہ سُنا ہو کہ شیر وہ جانور ہے جس کا رنگ سرخ ہوتا ہے اور گردن بہت لمبی ہوتی ہے اور دم بہت چھوٹی ہوتی ہے اور قد دس فٹ یا اس سے بھی زیادہ بلند ہوتا ہے وغیر ذالک۔تو وہ جب کبھی کوئی اصل شیر دیکھے گا تو لا محالہ یہی خیال کرے گا کہ یہ تو شیر نہیں ہے کیونکہ جو نقشہ اس کے ذہن میں شیر کا ہے۔اس کے مطابق وہ اسے نہیں پائے گا۔پس نبوت و ولایت کا ایک غلط نقشہ دل میں قائم ہو جانا بھی انسان کو اسی قسم کے شبہات میں مبتلا کر دیتا ہے۔پس ایسے حالات میں انسان کو چاہیے کہ آنحضرت ﷺ کے حالات زندگی کا بغور مطالعہ کرے اور منہاج نبوت اور سنت نبوی کو اپنے سامنے رکھے اور زید وبکر کے متعلق جو محض فرضی اور جھوٹے قصے مشہور ہوں ان پر نہ جاوے اور اپنے معیار کو اس روشنی میں قائم کرے جو قرآن شریف اور سرور کائنات کے سوانح کے مطالعہ سے اسے حاصل ہو۔ایک