سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 322
سیرت المہدی 322 حصہ دوم سے مدد چاہتا ہے ان کیلئے اپنے دل میں محبت رکھتا ہے اور ان کے دل میں اپنی محبت کو پاتا ہے ان کے مفاد کو اپنے مفاد سمجھتا ہے اور ان کے کاموں میں ان کا ہاتھ بٹاتا ہے ان کی خوشیوں اور غموں میں ان کا شریک حال ہوتا ہے۔وغیر ذلک۔گویا اپنی کوئی الگ انفرادی زندگی نہیں گزارتا۔بلکہ ان کے ساتھ مل کر ایک متحدہ حیات کا منظر پیش کرتا ہے اسی طرح انبیاء اور اولیا کا تعلق جو وہ ذات باری تعالیٰ کے ساتھ رکھتے ہیں۔ایک زندہ حقیقت کا حکم رکھتا ہے اور ہر دیکھنے والا محسوس کر سکتا ہے کہ جس طرح کسی کا کوئی باپ ہوتا ہے اور کوئی بیٹا کوئی بیوی اور کوئی بھائی اور کوئی دوست اسی طرح انبیاء و اولیاء اور صالحین خدا کے ساتھ ایک رشتہ رکھتے ہیں جو خواہ خادم و آقا والا ہی رشتہ ہے مگر محبت و وفا داری میں اپنی نظیر نہیں رکھتا۔میں اپنے اندر ایک عجیب حالت محسوس کرتا ہوں جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام ” أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ “ کے نزول کے حالات کو پڑھتا ہوں۔آپ کے والد ماجد بیمار ہوتے ہیں اور آپ کو الہام ہوتا ہے کہ ” وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِق“ یعنی آج شام کو ان کی دنیوی زندگی کا خاتمہ ہے۔آپ ان بوجھوں کو دیکھ کر جو والد کی وفات سے آپ پر پڑنے والے تھے کچھ فکر مند ہوتے ہیں اور ایک لمحہ نظر کے لئے خیال آتا ہے کہ بعض وجوہ معاش والد کی زندگی کے ساتھ وابستہ ہیں وہ فوت ہو جائیں گے تو پھر کیا ہو گا۔اس پر جھٹ دوسرا الہام نازل ہوتا ہے۔اَليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ “ یعنی اے میرے بندے! کیا تو یہ گمان کرتا ہے کہ تیرا رب تیری دستگیری کے لئے کافی نہیں ہے؟ اللہ اللہ کیا ہی محبت بھرا کلام ہے۔کوئی سمجھتا ہوگا کہ یہ زجر کا کلمہ ہے۔مگر جو ایسا خیال کرتا ہے۔میں اسے محبت کے کوچہ سے محض ہاں بالکل محض نا آشنا خیال کرتا ہوں کیونکہ میرے نزدیک ایسے موقعہ پر اظہار محبت کے واسطے اس سے زیادہ مناسب اور بہتر الفاظ چنے نہیں جاسکتے تھے۔یہ ایسا ہی کلام ہے جیسا کہ مثلا کسی کا کوئی دور کا رشتہ دار کسی سے جدا ہونے لگے تو وہ اس پر کرب کا اظہار کرے 66 اور یہ سمجھنے لگے کہ اب گویا میرا کوئی پوچھنے والا نہیں رہا۔حالانکہ اس کا حقیقی باپ جو اسے دل و جان چاہتا ہو اس کے پاس موجود ہو۔ایسے وقت میں باپ اپنے اس گھبرائے ہوئے بیٹے سے کیا کہے گا یہی نا کہ بیٹا کیا تو اپنے باپ کی محبت کو بھول گیا۔کیا تیرا یہ دور کا رشتہ دار تجھ سے تیرے اپنے باپ کی نسبت زیادہ محبت