سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 321
سیرت المہدی 321 حصہ دوم علیہ السلام ہمارے گاؤں فیض اللہ چک میں تشریف لے گئے اور ہماری متصلہ مسجد میں تشریف فرما ہوئے اور بوقت مغرب بڑی مسجد میں لوگوں کے اصرار سے جا کر نماز پڑھائی۔اس کے بعد آپ موضع حصہ غلام نبی میں تشریف لے گئے۔کیونکہ وہاں آپ کی دعوت تھی۔354 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نور محمد صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جس وقت میرے والد صاحب مرحوم کا انتقال ہوا تو اس کے بعد میں حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپ نے مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ حافظ صاحب اب بجائے والدین کے اللہ تعالے کو سمجھو وہی تمہارا کارساز اور متکفل ہو گا۔چنانچہ تا حال اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل اور ذرہ نوازی سے میری دستگیری فرمائی ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ایک عجیب حقیقت ہے کہ انبیاء اور اولیا کا تعلق اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ ایک زندہ چیز ہوتی ہے جس کی زندگی کو دیکھنے والا اسی طرح محسوس کرتا ہے۔جس طرح دوسری جاندار چیزوں کی زندگی دیکھی اور محسوس کی جاتی ہے اور ایسا نہیں ہوتا کہ ان کے نزدیک گویا خدا کا وجود ایک علمی دریافت ہے جس سے اگر کوئی شخص علمی فائدہ اُٹھانا چاہے تو اُٹھالے اور بس بلکہ ان لوگوں کا تعلق خدا تعالیٰ کیساتھ ایسا ہی محسوس و مشہود ہوتا ہے جیسا کہ دورشتہ داروں کا یا دو دوستوں کا باہمی تعلق ہوتا ہے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ خدا کا تعلق اس درجہ یا اس قسم کا ہوتا ہے جیسا کہ دوستوں یا رشتہ داروں کا ، بلکہ مطلب یہ ہے کہ محسوس ومشہور ہونے میں وہ اسی نوعیت کا ہوتا ہے جیسا کہ دنیاوی تعلقات ہوتے ہیں۔یعنی دیکھنے والا محسوس کرتا ہے کہ جس طرح ان لوگوں کا اپنے والدین اور بھائیوں، بہنوں اور بیوی بچوں اور دوستوں کے ساتھ ایک تعلق ہے اسی طرح اس ہستی کیساتھ بھی جسے خدا کہتے ہیں ان کا ایک معین تعلق ہے۔گو وہ اپنے درجہ عمق یا وسعت میں دنیوی تعلقات سے ہزار درجے بڑھ کر ہو اور یہ تعلق ان لوگوں کی عملی زندگی کے تمام شعبوں میں بلکہ ہر حرکت و سکون اور قول و فعل میں اسی طرح ( گودرجہ میں بہت بڑھ چڑھ کر محسوس طور پر اثر ڈالتا ہوا نظر آتا ہے جیسا کہ دنیوی تعلقات اثر ڈالتے ہیں یعنی جس طرح ایک شخص اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ میل ملاقات رکھتا ہے ان سے اپنے معاملات میں مشورہ لیتا ہے کسی ضرورت یا تکلیف اور مصیبت کے وقت ان