سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 316
سیرت المہدی 316 حصہ دوم 347 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ انور محمد صاحب سا کن فیض اللہ چک نے مجھ سے بذریعہ خط بیان کیا کہ میں ابھی بالکل نوجوان تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ملاقات کا شرف مجھے نصیب ہوا اور وہ اس طرح پر کہ حافظ حامد علی صاحب مرحوم جو ہمارے گاؤں کے پاس موضع تھے غلام نبی کے رہنے والے تھے۔وہ بعارضہ اسہال یعنی سنگر یہنی سخت بیمار ہو گئے اور علاج کیلئے قادیان آئے اور پھر قادیان میں ہی رہنے لگ گئے ان کی زبانی مجھے معلوم ہوا کہ حضرت صاحب بہت بزرگ آدمی ہیں اور ان کو الہام بھی ہوتا ہے۔یہ اس زمانہ کی بات ہے جب پٹھانکوٹ کی ریلوے لائن ابھی جاری ہوئی تھی۔حافظ حامد علی صاحب کی بات سن کر مجھے حضرت کی ملاقات کا شوق پیدا ہوا اور میں نے اپنے والد صاحب سے اجازت لی۔انہوں نے خوشی سے اجازت دی اور کہا کہ مرزا صاحب بہت بزرگ آدمی ہیں تم ان کے پاس بے شک جاؤ چنانچہ میں حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔انہی دنوں میں مسجد مبارک کی بنیاد رکھی گئی تھی مگرا بھی مسجد تعمیر نہ ہوئی تھی۔چونکہ میں حافظ قرآن تھا حضرت صاحب نے مجھے قرآن شریف سنانے کیلئے فرمایا جسے سُن کر آپ بہت خوش ہوئے پھر دو ایک دن ٹھہر کر میں چلا آیا اور حضرت صاحب نے مجھے فرمایا کہ زندگی کا اعتبار نہیں ہے جلدی جلدی آکر ملنا چاہیے۔اس کے بعد میں ہفتہ عشرہ کے بعد حضور کی خدمت میں حاضر ہوتارہتا تھا۔ان دنوں میں میں نے دیکھا کہ حضور کی زبان مبارک پر سبحان اللہ اور سبحان الله و بحمدہ کے الفاظ اکثر رہتے تھے۔اور ایک دفعہ آپ نے مجھ سے فرمایا کہ قناعت سے انسان خوش رہتا ہے۔اس زمانہ میں حضور کے پاس سوائے دو تین خادموں کے اور کوئی نہ ہوتا تھا۔پھر بعد میں آہستہ آہستہ دو دو چار چار آدمیوں کی آمد ورفت شروع ہو گئی۔ان دنوں میں میرے ایک عزیز دوست حافظ نبی بخش صاحب بھی جن کی عمر اس وقت دس بارہ سال کی تھی میرے ہمراہ قادیان جایا کرتے تھے۔رات ہوتی تو حضرت صاحب ہم سے فرماتے کہ آپ کہاں سوئیں گے۔ہم حضور سے عرض کرتے کہ حضور ہی کے پاس سور ہیں گے اور دل میں ہمارے یہ ہوتا تھا کہ حضور جب تہجد کے لئے رات کو اُٹھیں گے تو ہم بھی ساتھ ہی اُٹھیں گے۔مگر آپ اٹھ کر تہجد کی نماز پڑھ لیتے تھے اور ہم کو بر بھی نہ ہوتی تھی۔جب آپ اُٹھتے تھے تو چراغ روشن