سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 313
سیرت المہدی 313 حصہ دوم بند کر کے مارنا چاہا۔لیکن جب کتے نے شور مچایا تو حضرت صاحب کو بھی پتا لگ گیا اور آپ ہم پر ناراض ہوئے چنانچہ ہم نے دروازہ کھول کر کتے کو چھوڑ دیا۔343 بسم الله الرحمن الرحیم۔خواجہ عبد الرحمن صاحب کشمیر نے مجھ سے بذریعہ خط بیان کیا کہ مکرمی لسی ڈار ساکن آسنور علاقہ کشمیر اپنے بھائی حاجی عمر ڈار صاحب سے روایت کرتے تھے کہ جب میں ( عمر ڈار صاحب) پہلی دفعہ قادیان میں بیعت کے لئے آیا تو میرے یہاں پہنچنے کے بعد جو پہلی تقریر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمائی وہ حقوق اقرباء کے متعلق تھی چونکہ میں نے اپنے بھائی (سی ڈار ) کا کچھ حق دبایا ہوا تھا۔میں سمجھ گیا اور کشمیر پہنچ کر ان کا حق ان کو ادا کر دیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء ومرسلین سے اصلاح خلق کا کام لینا ہوتا ہے اس لئے وہ عموماً ایسا تصرف کرتا ہے کہ جو کمزوریاں لوگوں کے اندر ہوتی ہیں۔انہی کے متعلق ان کی زبان پر کلام جاری کرا دیتا ہے۔جس سے لوگوں کو اصلاح کا موقعہ مل جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حالات زندگی میں بہت سے ایسے واقعات ملتے ہیں اور حدیث سے پتہ لگتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک پر بھی بسا اوقات آپ کے مخاطب لوگوں کے حالات اور ضروریات کے مطابق کلام جاری ہوتا تھا۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ حاجی عمر ڈار صاحب مرحوم آسنور کشمیر کے ایک بہت مخلص احمدی تھے اور اپنے علاقہ کے رئیس تھے اور اب ان کے لڑکے بھی سلسلہ کے ساتھ خوب اخلاص رکھتے ہیں۔344 بسم الله الرحمن الرحیم۔خواجہ عبد الرحمن صاحب متوطن کشمیر نے مجھ سے بذریعہ خط بیان کیا کہ میرے والد میاں حبیب اللہ صاحب بیان کرتے تھے کہ ایک دفعہ مجھے نماز میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ کھڑے ہونے کا موقعہ ملا اور چونکہ میں احمدی ہونے سے قبل وہابی (اہلحدیث) تھا میں نے اپنا پاؤں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاؤں کیساتھ ملانا چاہا مگر جب میں نے اپنا پاؤں آپ کے پاؤں کیسا تھ رکھا تو آپ نے اپنا پاؤں کچھ اپنی طرف سر کا لیا جس پر میں بہت شرمندہ ہوا اور آئندہ کے لئے اس طریق سے باز آ گیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ فرقہ اہل حدیث اپنی اصل کے لحاظ سے ایک نہایت قابل قدر