سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 306
سیرت المہدی 306 حصہ دوم صاحب مرحوم فرماتے تھے کہ ایک دفعہ دو پہر کے وقت میں مسجد مبارک میں داخل ہوا تو اس وقت حضرت مسیح موعود ا کیلے گنگناتے ہوئے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا یہ شعر پڑھ رہے تھے اور ساتھ ساتھ ٹہلتے بھی جاتے تھے۔كنت السواد لناظری فعمی علیک الناظر من شاء بعدک فلیمت فعلیک کنت احاذر میری آہٹ سن کر حضرت صاحب نے چہرے پر سے رومال والا ہاتھ اُٹھالیا تو میں نے دیکھا کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے۔حضرت حسان آنحضرت ﷺ کے صحابہ میں سے تھے اور گویا آپ کے درباری شاعر تھے انہوں نے آنحضرت ﷺ کی وفات پر یہ شعر کہا تھا جس کا ترجمہ یہ ہے کہ تو میری آنکھ کی پتلی تھا۔پس تیری موت سے میری آنکھ اندھی ہو گئی اب تیرے بعد جو چاہے مرے مجھے پرواہ نہیں کیونکہ مجھے تو بس تیری ہی موت کا ڈر تھا جو واقع ہو چکی۔اس شعر کہنے والے کی محبت کا اندازہ کرنا بھی کوئی آسان کام نہیں۔مگر اس شخص کے سمند ر عشق کی تہ کو کون پہنچے کہ جو اس واقعہ کے تیرہ سوسال بعد تنہائی میں جب کہ اسے خدا کے سوا کوئی دیکھنے والا نہیں۔یہ شعر پڑھتا ہے اور اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کا تار بہ نکلتا ہے اور وہ شخص ان لوگوں میں سے نہیں ہے جن کی آنکھیں بات بات پر آنسو بہانے لگ جاتی ہیں بلکہ وہ وہ شخص ہے کہ جس پر اس کی زندگی میں مصائب کے پہاڑ ٹوٹے اور غم والم کی آندھیاں چلیں مگر اس کی آنکھوں نے اس کے جذبات قلب کی کبھی غمازی نہیں کی۔پیر سراج الحق صاحب نعمانی نے بذریعہ تحریر خاکسار سے بیان کیا۔کہ:۔یہ شعر كُنتَ السَّوَادَ لناظرى الخ مسجد مبارک میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے میرے سامنے پڑھا تھا۔اور مجھے سُنا کر فرمایا۔کہ کاش احسان کا یہ شعر میرا ہوتا اور میرے تمام شعرحستان کے ہوتے۔پھر آپ چشم پر آب ہو گئے۔اس وقت حضرت اقدس نے یہ شعر کئی بار پڑھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حسان بن ثابت کے شعر کے متعلق