سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 299
سیرت المہدی 299 حصہ دوم اس کے بیان کرنے میں خاص حکمت تھی اور یہ کہ مسئلہ قدامت روح و مادہ کی بحث میں خلق مادہ کے اثبات کے لئے اس کے اظہار کی ضرورت پیش آگئی تھی اور چونکہ گرتہ جس پر چھینٹے پڑے تھے موجود تھا اور اس کے ساتھ ایک دوسرے شخص کی (جو اس واقعہ کے وقت عاقل بالغ مرد تھا اور حضرت کیساتھ کوئی دنیاوی یا جسمانی تعلق نہ رکھتا تھا ) عینی شہادت بھی موجود تھی اس لئے آپ نے اس واقعہ کو خدمت اسلام اور جہاد فی سبیل اللہ کی غرض سے ظاہر فرمایا اور ایک آریہ معترض پر حجت پوری کی۔وَاللهُ أَعْلَمُ۔علاوہ ازیں یہ بھی یادرکھنا چاہیے کہ اس روایت میں حضرت والدہ صاحبہ بھی راو یہ ہیں۔323 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ سیرۃ المہدی کے حصہ اول کی روایت نمبر ۱۰ ( صحیح نمبر 1) میں خاکسار نے یہ لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام منگل کے دن کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔اس کا مطلب بعض لوگوں نے غلط سمجھا ہے۔کیونکہ انہوں نے اس سے ایسا نتیجہ نکالا ہے کہ گویا منگل کا دن ایک منحوس دن ہے جس میں کسی کام کی ابتداء نہیں کرنی چاہیے۔ایسا خیال کرنا درست نہیں اور نہ حضرت صاحب کا یہ مطلب تھا بلکہ منشاء یہ ہے کہ جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے دن اپنی برکات کے لحاظ سے ایک دوسرے پر فوقیت رکھتے ہیں۔مثلاً جمعہ کا دن مسلمانوں میں مسلمہ طور پر مبارک ترین دن سمجھا گیا ہے۔اس سے اتر کر جمعرات کا دن اچھا سمجھا جاتا ہے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ اپنے سفروں کی ابتداء اس دن میں صلى الله فرماتے تھے۔خلاصہ کلام یہ کہ دن اپنی برکات و تاثیرات کے لحاظ سے ایک دوسرے پر فوقیت رکھتے ہیں اور اس تو ازن اور مقابلہ میں منگل کا دن گویا سب سے پیچھے ہے۔کیونکہ وہ شدائد اور ختی کا اثر رکھتا ہے جیسا کہ حدیث میں بھی مذکور ہے نہ یہ کہ نعوذ باللہ منگل کا د کوئی منحوس دن ہے۔پس حتی الوسع اپنے اہم کاموں کی ابتداء کے لئے سب سے زیادہ افضال و برکات کے اوقات کا انتخاب کرنا چاہیے لیکن ایسا بھی نہ ہو کہ اس غرض کو پورا کرنے کے لئے کوئی نقصان برداشت کیا جاوے یا کسی ضروری اور اہم کام میں توقف کو راہ دیا جاوے ہر ایک بات کی ایک حد ہوتی ہے اور حد سے تجاوز کرنے والا شخص نقصان اُٹھا تا ہے اور میں نے دیکھا ہے کہ جولوگ دنوں وغیرہ کے معاملہ میں ضرورت سے زیادہ خیال رکھتے ہیں۔ان پر بالآ خر تو ہم