سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 297 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 297

سیرت المہدی 297 حصہ دوم آدمی نہ چھوڑا گیا جو کسی طرح کوئی اہمیت یا اثر یا شہرت رکھتا ہو اور پھر اسے یہ اشتہار نہ بھیجا گیا ہو کیونکہ حضرت صاحب نے فرمایا تھا کہ جہاں جہاں ہندوستان کی ڈاک پہنچ سکتی ہے وہاں وہاں ہم یہ اشتہار بھیجیں گے نیز میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس کا اردو حصہ پہلے چھپ چکا تھا اور انگریزی بعد میں ترجمہ کرا کے اس کی پشت پر چھاپا گیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ اشتہارابتداء غالبا۱۸۸۴ء میں شائع کیا گیا اور پھر بعد میں شحنہ حق “ اور ” آئینہ کما<mark>لا</mark>ت اس<mark>لا</mark>م اور برکات الدعا“ کے ساتھ بھی اس کی اشاعت کی گئی۔اور میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت صاحب نے اس کے ترجمہ کے لئے مجھے میاں الہی بخش اکو نٹنٹ <mark>لا</mark>ہور کے پاس بھیجا تھا اور فرمایا تھا کہ وہیں <mark>لا</mark>ہور میں اس کا ترجمہ کرا کے چھپوا لیا جاوے۔322 بسم اللہ الرح<mark>من</mark> الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ سیرۃ المہدی کے حصہ اول کی روایت نمبر 4 میں جو سنگترہ کا واقعہ خاکسار نے لکھا ہے اس کے متعلق میرے ایک بزرگ نے مجھ سے فرمایا کہ میرے نزدیک یہ روایت قابل توجیہہ ہے اور مجھے ایسا خیال آتا ہے کہ چونکہ اس وقت حضرت میاں صاحب یعنی حضرت خلیفہ امسیح الثانی ایدہ اللہ ابھی بالکل بچہ تھے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والس<mark>لا</mark>م نے اُن کو خوش کرنے کے لئے بطور مزاح کے ایسا کیا ہو گا کہ چپکے سے <mark>اپنی</mark> جیب میں سے سنگترہ نکال کر درخت پر ہاتھ مارا ہوگا اور پھر ان کو وہ سنگترہ دے دیا ہو گا۔ورنہ اگر واقعی ایسا خارق عادت امر پیش آتا تو حضرت مسیح موعود علیہ الس<mark>لا</mark>م <mark>اپنی</mark> کسی تصنیف یا تقریر میں اس کا ذکر فرماتے جیسا کہ آپ نے کرتہ پر سرخی کے چھینٹے پڑنے کا ذکر فرمایا ہے۔خاکسار اس رائے کو وقعت کی نظر سے دیکھتا ہے اور عق<mark>لا</mark>ً اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ ممکن ہے کہ ایسا ہی ہو اور اسی لئے خاکسار نے جب یہ روایت لکھی تھی تو اسے بغیر نوٹ کے چھوڑ دیا تھا لیکن خاکسار اس واقعہ کے ظاہری پہلو کو بھی ہرگز ناممکن الوقوع نہیں سمجھتا اور نہ میرے وہ بزرگ جنہوں نے یہ رائے ظاہر کی ہے ایسا خیال فرماتے ہیں۔اور میرے نزدیک حضرت صاحب کے اسے شائع نہ کرنے سے بھی یہ استد<mark>لا</mark>ل یقینی طور پر نہیں ہوتا کہ یہ واقعہ حضرت کی طرف سے بچہ کو خوش کرنے کے لئے مزاحا ظہور پذیر <mark>ہوا</mark> تھا جہاں تک میں نے غور کیا ہے اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ جو نشانات وہ اپنے کسی <mark><mark>نبی</mark></mark> یا مامور کے ہاتھ پر