سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 296
سیرت المہدی 296 حصہ دوم بے احتیاطی سے اس سے بھی قبل ہو جاتی ہو۔اس لئے ایسے موقعوں پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اذان کا چنداں خیال نہ فرماتے تھے اور صبح صادق کے تبین تک سحری کھاتے رہتے تھے اور دراصل شریعت کا منشاء بھی اس معاملہ میں یہ نہیں ہے کہ جب علمی اور حسابی طور پر صبح صادق کا آغاز ہوا سکے ساتھ ہی کھانا ترک کر دیا جاوے بلکہ منشاء یہ ہے کہ جب عام لوگوں کی نظر میں صبح کی سفیدی ظاہر ہو جاوے اس وقت کھانا چھوڑ دیا جاوے چنانچہ تبتین کا لفظ اسی بات کو ظاہر کر رہا ہے۔حدیث میں بھی آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ بلال کی اذان پر سحری نہ چھوڑا کرو بلکہ ابن مکتوم کی اذان تک بیشک کھاتے پیتے رہا کرو کیونکہ ابن مکتوم نابینا تھے اور جب تک لوگوں میں شور نہ پڑ جاتا تھا کہ صبح ہوگئی ہے، صبح ہو گئی ہے اس وقت تک اذان نہ دیتے تھے۔321 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔منشی عبداللہ صاحب سنوری نے مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام الہی کے ذریعہ یہ معلوم ہوا کہ آپ اس صدی کے مجدد ہیں (ابھی تک آپ کو مسیحیت و مہدیت کا دعوای نہ تھا ) تو آپ نے ایک اشتہار کے ذریعہ جوار دو اور انگریزی ہر دوزبانوں میں شائع کیا گیا تھا یہ اعلان فرمایا کہ خدا نے مجھے اس زمانہ کا مجدّد مقررفرمایا ہے اور مجھے اس کام کیلئے مامور فرمایا ہے کہ میں اسلام کی صداقت بمقابلہ دوسرے مذاہب کے ثابت وقائم کروں اور نیز اصلاح اور تجدید دین کا کام بھی میرے سپرد فرمایا گیا ہے اور نیز آپ نے یہ بھی لکھا کہ میرے اندر روحانی طور پر مسیح ابن مریم کے کمالات ودیعت کئے گئے ہیں۔اور آپ نے تمام دنیا کے مذاہب کے متبعین کو دعوت دی کہ وہ آپ کے سامنے آکر اسلام کی صداقت کا امتحان کریں اور اپنے روحانی امراض سے شفاء پائیں یہ اشتہار میں ہزار کی تعداد میں شائع کیا گیا اور منشی عبداللہ صاحب سنوری بیان کرتے ہیں پھر بڑے اہتمام کے ساتھ تمام دنیا کے مختلف حصوں میں بذریعہ رجسٹر ڈ ڈاک اس کی اشاعت کی گئی۔چنانچہ تمام بادشاہوں و فرماں روایان دول و وزراء ومدبرین و مصنفین و علماء دینی و نوابوں و راجوں وغیرہ وغیرہ کو یہ اشتہار ارسال کیا گیا اور اس کام کے لئے بڑی محنت کے ساتھ پتے حاصل کئے گئے اور حتی الوسع دنیا کا کوئی ایسا معروف