سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 295 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 295

سیرت المہدی 295 حصہ دوم 319 بسم الله الرحمن الرحیم۔قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے مجھے بذریعہ خط اطلاع دی کہ میں جب شروع میں قادیان گیا تو ایک شخص نے اپنے لڑکے کو حضرت صاحب کے سامنے ملاقات کے لئے پیش کیا۔جس وقت وہ لڑکا حضرت صاحب کے مصافحہ کیلئے آگے بڑھا تو اظہار تعظیم کے لئے حضرت کے پاؤں کو ہاتھ لگانے لگا۔جس پر حضرت صاحب نے اپنے مبارک ہاتھوں سے اسے ایسا کرنے سے روکا اور میں نے دیکھا کہ آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ نے بڑے جوش میں فرمایا کہ انبیاء دنیا میں شرک مٹانے آتے ہیں اور ہمارا کام بھی شرک مٹانا ہے نہ کہ شرک قائم کرنا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یوں تو اسلام کا لب لباب ہی ادب واحترام ہے چنانچہ اَلطَّرِيقَةُ كُلُّهَا اَدَب کا بھی یہی منشاء ہے کہ ہر چیز کا اس کے مرتبہ کے مطابق ادب و احترام کیا جاوے نہ کم نہ زیادہ کیونکہ افراط و تفریط ہر دو ہلاکت کی راہیں ہیں۔320 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ۱۸۹۵ء میں مجھے تمام ماہ رمضان قادیان میں گزارنے کا اتفاق ہوا اور میں نے تمام مہینہ حضرت صاحب کے پیچھے نماز تہجد یعنی تراویح ادا کی۔آپ کی یہ عادت تھی کہ وتر اول شب میں پڑھ لیتے تھے اور نماز تہجد آٹھ رکعت دودو رکعت کر کے آخر شب میں ادا فرماتے تھے۔جس میں آپ ہمیشہ پہلی رکعت میں آیت الکرسی تلاوت فرماتے تھے یعنی اللَّهُ لَا إِلهَ إِلَّا هُو سے وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ تک اور دوسری رکعت میں سورۃ اخلاص کی قرآت فرماتے تھے اور رکوع اور سجود میں يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ اَسْتَغیث اکثر پڑھتے تھے اور ایسی آواز سے پڑھتے تھے کہ آپ کی آواز میں سن سکتا تھا نیز آپ ہمیشہ سحری نماز تہجد کے بعد کھاتے تھے اور اس میں اتنی تاخیر فرماتے تھے کہ بعض دفعہ کھاتے کھاتے اذان ہو جاتی تھی اور آپ بعض اوقات اذان کے ختم ہونے تک کھانا کھاتے رہتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ در اصل مسئلہ تو یہ ہے کہ جب تک صبح صادق افق مشرق سے نمودار نہ ہو جائے سحری کھانا جائز ہے اذان کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ صبح کی اذان کا وقت بھی صبح صادق کے ظاہر ہونے پر مقرر ہے اس لئے لوگ عموماً سحری کی حد اذان ہونے کو سمجھ لیتے ہیں قادیان میں چونکہ صبح اذان صبح صادق کے پھوٹتے ہی ہو جاتی ہو بلکہ ممکن ہے کہ بعض اوقات غلطی اور