سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 294 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 294

سیرت المہدی 294 حصہ دوم زندگی کے مطالعہ سے پتا لگتا ہے کہ وفات کے وقت آپ کے صرف چند بال سفید تھے۔دراصل اس زمانہ میں مطالعہ اور تصنیف کے مشاغل انسان کی دماغی طاقت پر بہت زیادہ بوجھ ڈالتے ہیں۔با ینہمہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عام قولی آخر عمر تک بہت اچھی حالت میں رہے اور آپ کے چلنے پھرنے اور کام کاج کی طاقت میں کسی قسم کی انحطاط کی صورت رونما نہیں ہوئی بلکہ میں نے بھائی شیخ عبدالرحیم صاحب سے سُنا ہے کہ گو درمیان میں آپ کا جسم کسی قدر ڈھیلا ہو گیا تھا لیکن آخری سالوں میں پھر خوب سخت اور مضبوط معلوم ہوتا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ بھائی عبدالرحیم صاحب کو جسم کے دبانے کا کافی موقع ملتا تھا۔318 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں عبد اللہ صاحب سنوری نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ اوائل زمانہ میں حضرت صاحب قادیان کے شمال کی طرف سیر کے لئے تشریف لے گئے۔میں اور شیخ حامد علی مرحوم ساتھ تھے۔میرے دل میں خیال آیا کہ سنا ہوا ہے کہ یہ لوگ دل کی باتیں بتا دیتے ہیں۔آؤ میں امتحان لوں۔چنانچہ میں نے دل میں سوال رکھنے شروع کئے۔اور حضرت صاحب انہی کے مطابق جواب دیتے گئے۔یعنی جو سوال میں دل میں رکھتا تھا اسی کے مطابق بغیر میرے اظہار کے آپ تقریر فرمانے لگ جاتے تھے۔چنانچہ چار پانچ دفعہ لگا تار اسی طرح ہوا اس کے بعد میں نے حضرت صاحب سے عرض کر دیا کہ میں نے یہ تجربہ کیا ہے۔حضرت صاحب سُن کر ناراض ہوئے اور فر ما یاتم شکر کر تم پر اللہ کا فضل ہو گیا۔اللہ کے مرسل اور اولیاء غیب دان نہیں ہوتے آئندہ ایسا نہ کرنا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میاں عبداللہ صاحب نے حضرت صاحب کو یہ نہیں بتایا تھا کہ میں دل میں کوئی سوال رکھ رہا ہوں۔بلکہ آپ کیسا تھ جاتے جاتے خود بخود دل میں سوال رکھنے شروع کر دیئے تھے۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ بچے اور جھوٹے مدعیوں میں ایک یہ بھی فرق ہوتا ہے کہ جھوٹا ہر بات میں اپنی بڑائی ڈھونڈتا اور بزرگی منوانا چاہتا ہے اور بچے کا صرف یہ مقصود ہوتا ہے کہ راستی اور صداقت قائم ہو۔چنانچہ ایک جھوٹا شخص ہمیشہ ایسے موقع پر ناجائز فائدہ اُٹھا کر دوسروں کے دل میں اپنی بزرگی کا خیال پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر سچا آدمی اپنی عزت اور بڑائی کی پرواہ نہیں کرتا بلکہ راستی کو قائم کرتا ہے خواہ بظاہر اس میں اس کی بزرگی کو صدمہ ہی پہنچتا ہو۔