سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 290
سیرت المہدی 290 حصہ دوم میں بھی پورا کرنے کی سعی فرماتے تھے۔چنانچہ اس موقعہ پر بھی اسی خیال سے حضرت نے ایسا فر مایا۔اس پر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے میرا اور میاں عبداللہ صاحب سنوری کا نام لیا اور حضرت نے پسند فرمایا اور ہم دونوں کو ماش کے دانوں پر ایک ہزار دفعہ سورہ الم تَرَ كَيْفَ پڑھنے کا حکم دیا۔چنانچہ ہم نے عشاء کی نماز کے بعد سے شروع کر کے رات کے دو بجے تک یہ وظیفہ ختم کیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ روایت حصہ اوّل میں میاں عبد اللہ صاحب سنوری کی زبانی بھی درج ہو چکی ہے۔اور مجھے میاں عبداللہ صاحب والی روایت سن کر تعجب ہوا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ فعل کس حکمت کے ماتحت کیا ہے۔کیونکہ اس قسم کی کارروائی بظاہر آپ کے طریق عمل کے خلاف ہے لیکن اب پیر صاحب کی روایت سے یہ عقدہ حل ہو گیا ہے کہ آپ کا یہ فعل در اصل ایک خواب کی بنا پر تھا جسے آپ نے ظاہری صورت میں بھی پورا فرما دیا۔کیونکہ آپ کی یہ عادت تھی کہ حتی الوسع خوابوں کو ان کی ظاہری شکل میں بھی پورا کرنے کی کوشش فرماتے تھے۔بشرطیکہ ان کی ظاہری صورت شریعت اسلامی کے کسی حکم کے خلاف نہ ہو اور اس خواب میں حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ جس طرح اصحاب فیل (جو عیسائی تھے ) کے حملہ سے خدا نے کعبہ کومحفوظ رکھا اور اپنے پاس سے سامان پیدا کر کے ان کو ہلاک و پسپا کیا اسی طرح آتھم کی پیش گوئی والے معاملہ میں بھی عیسائیوں کا اسلام پر حملہ ہوگا اور ان کو ظاہراً اسلام کے خلاف شور پیدا کرنے کا موقعہ مل جائے گا۔لیکن بالآخر اللہ تعالیٰ اپنے پاس سے ان کو شکست و ہزیمت کا سامان پیدا کر دے گا اور یہ کہ مومنوں کو چاہیے کہ اس معاملہ میں خدا پر بھروسہ کریں اور اسی سے مدد کے طالب ہوں اور اس وقت کو یا درکھیں کہ جب مکہ والے کمزور تھے اور ان پر ابرہ کا شکر حملہ آور ہوا تھا اور پھر خدا نے ان کو بچایا۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ پیر صاحب اور میاں عبداللہ صاحب کی روایتوں میں بعض اختلافات ہیں جو دونوں میں سے کسی صاحب کے نسیان پر مبنی معلوم ہوتے ہیں۔مثلاً میاں عبداللہ صاحب نے اپنی روایت میں بجائے ماش کے چنے کے دانے بیان کئے ہیں۔مگر خواہ ان میں سے کوئی ہو ماش اور چنے ہردو کی تعبیر علم الرویاء کے مطابق غم واندوہ کی ہے۔جس میں یہ اشارہ ہے کہ آتھم والے معاملہ میں بظاہر کچھ غم پیش آئے گا۔مگر یہ غم واندوہ سورۃ الفیل کے اثر کے ماتحت بالآخر