سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 286 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 286

سیرت المہدی 286 حصہ دوم پیر سراج الحق صاحب نعمانی نے بذریعہ تحریر خاکسار سے بیان کیا۔کہ:۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام عصر کی نماز کے وقت مسجد مبارک میں تشریف لائے۔بائیں ہاتھ کی انگلی پر پٹی پانی میں بھیگی ہوئی باندھی ہوئی تھی۔اس وقت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی نے حضرت اقدس سے پوچھا۔کہ حضور نے یہ پٹی کیسے باندھی ہے؟ تب حضرت اقدس علیہ السّلام نے ہنس کر فرمایا کہ ایک چوزہ ذبح کرنا تھا۔ہماری اُنگلی پر چھری پھر گئی۔مولوی صاحب مرحوم بھی ہنسے اور عرض کیا کہ آپ نے ایسا کام کیوں کیا۔حضرت نے فرمایا۔کہ اس وقت اور کوئی نہ تھا۔308 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔پیر سراج الحق صاحب نعمانی نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ چند احباب نے حضرت اقدس سے دریافت کیا کہ یہ جو مشہور ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بادل کا سایہ رہتا تھا۔یہ کیا بات ہے؟ آپ نے جواب میں فرمایا کہ ہر وقت تو بادل کا سایہ رہنا ثابت نہیں۔اگر ایسا ہوتا تو کوئی کافر کافر نہ رہتا۔سب لوگ فوراً یقین لے آتے کیونکہ ایسا معجزہ دیکھ کر کون انکار کر سکتا تھا دراصل سنت اللہ کے مطابق معجزہ تو وہ ہوتا ہے کہ جس میں ایک پہلو اخفاء کا بھی ہواور فرمایا کہ ہر وقت بادل کا سایہ رہنا تو موجب تکلیف بھی ہے علاوہ ازیں اگر ہر وقت بادل کا سایہ رہتا تو کیوں گرمی کے وقت حضرت ابو بکر آپ پر چادر تان کر سایہ کرتے اور ہجرت کے سفر میں آپ کے لئے کیوں سایہ دار جگہ تلاش کرتے ؟ ہاں کسی خاص وقت کسی حکمت کے ماتحت آپ کے سر پر بادل نے آکر سایہ کیا ہو تو تعجب نہیں۔چنانچہ ایک دفعہ ہمارے ساتھ بھی ایسا واقعہ ہوا تھا پھر آپ نے وہ واقعہ سنایا جو بٹالہ سے قادیان آتے ہوئے آپ کو پیش آیا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ واقعہ حصہ اول میں درج ہو چکا ہے۔309 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔پیر سراج الحق صاحب نعمانی نے مجھ سے بیان کیا کہ جب پہلے دن لدھیانہ میں بیعت ہوئی تو سب سے پہلے حضرت مولوی نور الدین صاحب نے بیعت کی۔ان کے بعد میر عباس علی نے اور پھر خواجہ علی صاحب مرحوم نے کی۔اس دن میاں عبداللہ صاحب سنوری اور شیخ حامد علی صاحب مرحوم اور مولوی عبد اللہ صاحب جو خوست کے رہنے والے تھے اور بعض اور آدمیوں نے بیعت کی