سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 23
سیرت المہدی 23 حصہ اوّل ہے اور خوشی کا اظہار فرماتے تھے۔اس روایت میں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب تحفہ گولڑویہ کا ذکر آتا ہے اس کے متعلق یہ بات قابل ذکر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حقیقۃ الوحی میں تحفہ گولڑویہ کی بجائے تریاق القلوب کا نام لکھا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سہو ہوا ہے اور درست یہی ہے کہ عدالت میں جس کتاب کے متعلق پوچھا گیا تھاوہ تحفہ گولڑوی تھی نہ کہ تریاق القلوب - جیسا کہ حصہ دوم کی روایت نمبر ۳۸۹ میں مسل عدالت کے حوالہ سے ثابت کیا جا چکا ہے۔) 30 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عادت تھی کہ ہر شخص کی خواب توجہ سے سنتے تھے اور بسا اوقات نوٹ بھی فرمالیتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ جب مرزا کمال الدین وغیرہ نے مسجد کے نیچے کا راستہ دیوار کھینچ کر بند کر دیا تھا اور احمد یوں کو سخت تکلیف کا سامنا تھا اور آپ کو مجبورا قانونی چارہ جوئی کرنی پڑی تھی۔(اس موقعہ کے علاوہ کبھی آپ نے کسی کے خلاف خود مقدمہ دائر نہیں کیا ) میں نے خواب دیکھا کہ وہ دیوار گرائی جارہی ہے اور میں اس کے گرے ہوئے حصے کے اوپر سے گذر رہا ہوں۔میں نے آپ کے پاس بیان کیا آپ نے بڑی توجہ سے سنا اور نوٹ کر لیا۔اس وقت میں بالکل بچہ تھا۔31 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جن دنوں ۱۹۰۵ء کا بڑا زلزلہ آیا تھا اور آپ باغ میں رہائش کے لئے چلے گئے تھے۔مفتی محمد صادق صاحب کے لڑکے محمد منظور نے جو ان دنوں میں بالکل بچہ تھا خواب میں دیکھا کہ بہت سے بکرے ذبح کئے جارہے ہیں۔حضرت صاحب کو اس کی اطلاع پہنچی تو کئی بکرے منگوا کر صدقہ کروا دئیے اور حضرت صاحب کی اتباع میں اور اکثر لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا۔میرا خیال ہے اس وقت باغ میں ایک سو سے زیادہ بکرا ذبح ہوا ہوگا۔32 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب ۱۹۰۵ء کا زلزلہ آیا تو میں بچہ تھا اور نواب محمد علی خان صاحب کے شہر والے مکان کے ساتھ ملحق حضرت صاحب کے مکان کا جو حصہ ہے اس میں ہم