سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 282
سیرت المہدی 282 حصہ دوم ممتاز و متباین یقین کرتا ہو۔بطریق افترا بقائمی ہوش و حواس الفاظ معینہ کی صورت میں کوئی قول یا اقوال منسوب کر کے اس بات کا دعویٰ شائع کرے کہ یہ کلام خدا نے مجھے الہام کیا ہے اور وہ خدائی کلام کو خود اپنے کلام اور خیالات سے ہر طرح ممتاز ومتباین قرار دیتا ہو۔یعنی کسی خاص مقام یا خاص حالت یا خاص قسم کے دل کے خیالات کا نام الہام الہی رکھنے والا نہ ہو۔اور نہ خود خدائی کا دعوے دار بنتا ہو۔جیسا کہ نیچریوں یا برہم سماجیوں یا بہائیوں کا خیال ہے۔اگر یہ شرائط جو آیت لَوْ تَقَوَّلَ سے ثابت ہیں مفقود ہوں تو خواہ ایک شخص تئیس سال چھوڑ کر دوسو سال بھی زندگی پائے وہ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا کے وعید کے ماتحت سزا نہیں پائے گا۔گو وہ اور طرح مجرم ہو اور دوسری سزائیں بھگتے جیسا کہ مثلاً وہ شخص جو خواہ ساری عمر چوری یا دھو کہ یا فریب یا اکل بالباطل وغیرہ کے جرائم میں ماخوذ ہوکر ان جرموں کی سزائیں پاتا رہا ہو۔اگر وہ ڈاکہ زن نہیں ہے تو وہ کبھی بھی ڈاکہ کے جرم کی سزا نہیں پاسکتا۔فَافُهم - 306 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول رضی اللہ عنہ بیان فرماتے تھے کہ ایک دفعہ کسی بحث کے دوران میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کسی مخالف نے کوئی حوالہ طلب کیا اس وقت وہ حوالہ حضرت کو یاد نہیں تھا اور نہ آپ کے خادموں میں سے کسی اور کو یاد تھا لہذا شمانت کا اندیشہ پیدا ہوا مگر حضرت صاحب نے بخاری کا ایک نسخہ منگایا اور یونہی اس کی ورق گردانی شروع کر دی اور جلد جلد ایک ایک ورق اس کا الٹانے لگ گئے اور آخر ایک جگہ پہنچ کر آپ ٹھہر گئے اور کہا کہ لو یہ لکھ لو۔دیکھنے والے سب حیران تھے کہ یہ کیا ماجرا ہے۔اور کسی نے حضرت صاحب سے دریافت بھی کیا۔جس پر حضرت صاحب نے فرمایا کہ جب میں نے کتاب ہاتھ میں لے کر ورق الٹانے شروع کئے تو مجھے کتاب کے صفحات ایسے نظر آتے تھے کہ گویا وہ خالی ہیں اور ان پر کچھ نہیں لکھا ہوا اسی لئے میں ان کو جلد جلد الٹا تا گیا آخر مجھے ایک صفحہ ملا جس پر کچھ لکھا ہوا تھا اور مجھے یقین ہوا کہ یہ وہی حوالہ ہے جس کی مجھے ضرورت ہے۔گویا اللہ تعالیٰ نے ایسا تصرف کیا کہ سوائے اس جگہ کے کہ جس پر حوالہ درج تھا باقی تمام جگہ آپ کو خالی نظر آئی۔