سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 281 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 281

سیرت المہدی 281 حصہ دوم بسم اللہ الرحمن الرحیم 305 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے تھے کہ ایک دفعہ جب میں لدھیانہ میں تھا اور چہل قدمی کے لئے باہر راستہ پر جارہا تھا تو ایک انگریز میری طرف آیا اور سلام کہہ کر مجھ سے پوچھنے لگا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ خدا آپ کے ساتھ کلام کرتا ہے۔میں نے کہا ”ہاں“ اس پر اس نے پوچھا کہ وہ کس طرح کلام کرتا ہے؟ میں نے کہا اسی طرح جس طرح اس وقت آپ میرے ساتھ باتیں کر رہے ہیں۔اس پر اس انگریز کے منہ سے بے اختیار نکلا سبحان اللہ اور پھر وہ ایک گہری فکر میں پڑ کر آہستہ آہستہ چلا گیا۔مولوی صاحب کہتے تھے کہ اُس کا اس طرح سبحان اللہ کہنا آپ کو بہت عجیب اور بھلا معلوم ہوا تھا۔اسی لئے آپ نے یہ واقعہ بیان کیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں جب حضرت مسیح موعود کے دعوی کو دیکھتا ہوں تو دل سرور سے بھر جاتا ہے۔بھلا جس طرح یہ شیر خدا کا مر دمیدان بن کر گر جاہے کسی کی کیا مجال ہے کہ اس طرح اسی میدان میں بقائمی ہوش و حواس افترا کے طور پر قدم دھرے اور پھر لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيلِ لَا خَذْ نَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَامِنُهُ الْوَتِينُ (الحاقة :۴۵ تا ۴۷) کے وعید کی آگ اسے جلا کر راکھ نہ کر دے ، مگر یہ یا درکھنا چاہیے کہ خدائی قانون میں ہر جرم کی الگ الگ سزا ہے اور لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا کے ماتحت صرف وہی شخص سزا پا سکتا ہے جو خدائے خالق و مالک کی طرف جسے وہ ذات وصفات ہر دو میں اپنی ذات وصفات بلکہ جمیع مخلوقات سے واضح طور پر غیر اور