سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 271 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 271

سیرت المہدی 271 حصہ اوّل کے غربی حصہ میں ایک چھوٹا سا حجرہ تھا۔جو مسجد کا حصہ ہی تھا لیکن درمیانی دیوار کی وجہ سے علیحدہ صورت میں تھا۔امام اس حجرہ کے اندر کھڑا ہوتا تھا۔اور مقتدی پیچھے بڑے حصہ میں ہوتے تھے۔بعد میں جب مسجد کی توسیع کی گئی تو اس غربی حجرہ کی دیوار اڑا کر اسے مسجد کے ساتھ ایک کر دیا گیا) 301 بسم الله الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے بیوہ مرحومہ مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم نے کہ جب مولوی عبد الکریم صاحب بیمار ہوئے اور ان کی تکلیف بڑھ گئی تو بعض اوقات شدت تکلیف کے وقت نیم غشی کی سی حالت میں وہ کہا کرتے تھے کہ سواری کا انتظام کرو میں حضرت صاحب سے ملنے کیلئے جاؤ نگا۔گویا وہ سمجھتے تھے کہ میں کہیں باہر ہوں اور حضرت صاحب قادیان میں ہیں اور بعض اوقات کہتے تھے اور ساتھ ہی زار زار رو پڑتے تھے کہ دیکھو میں نے اتنے عرصہ سے حضرت صاحب کا چہرہ نہیں دیکھا۔تم مجھے حضرت صاحب کے پاس کیوں نہیں لے جاتے۔ابھی سواری منگاؤ اور مجھے لے چلو۔ایک دن جب ہوش تھی کہنے لگے جاؤ حضرت صاحب سے کہو کہ میں مر چلا ہوں مجھے صرف دُور سے کھڑے ہو کر اپنی زیارت کرا جائیں۔اور بڑے روئے اور اصرار کے ساتھ کہا کہ ابھی جاؤ میں نیچے حضرت صاحب کے پاس آئی کہ مولوی صاحب اس طرح کہتے ہیں۔حضرت صاحب فرمانے لگے کہ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ کیا میرا دل مولوی صاحب کے ملنے کو نہیں چاہتا ! مگر بات یہ ہے کہ میں ان کی تکلیف کو دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتا۔مولویانی مرحومہ کہتی تھیں کہ اس وقت تمہاری والدہ پاس تھیں انہوں نے حضرت صاحب سے کہا کہ جب وہ اتنی خواہش رکھتے ہیں تو آپ کھڑے کھڑے ہو آئیں۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ اچھا میں جاتا ہوں مگر تم دیکھ لینا کہ ان کی تکلیف کو دیکھ کر مجھے دورہ ہو جائے گا۔خیر حضرت صاحب نے پگڑی منگا کرسر پر رکھی اور ادھر جانے لگے۔میں جلدی سے سیڑھیاں چڑھ کر آگے چلی گئی تا کہ مولوی صاحب کو اطلاع دوں کہ حضرت صاحب تشریف لاتے ہیں۔جب میں نے مولوی صاحب کو جا کر اطلاع دی تو انہوں نے الٹا مجھے ملامت کی کہ تم نے حضرت صاحب کو کیوں تکلیف دی؟ کیا میں نہیں جانتا کہ وہ کیوں تشریف نہیں لاتے ؟ میں نے کہا کہ آپ نے خود تو کہا تھا۔انہوں نے کہا کہ وہ تو میں نے دل کا دکھڑا رویا تھا۔تم فوراً جاؤ اور حضرت