سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 270
سیرت المہدی 270 حصہ اوّل جواب بھیجا تو اس کے شروع میں لکھا کہ آپ کو السلام علیکم لکھنا چاہیے تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ بظاہر یہ ایک معمولی سی بات نظر آتی ہے مگر اس سے پتہ لگتا ہے کہ آپکو اپنی جماعت کی تعلیم و تادیب کا کتنا خیال تھا۔اور نظر غور سے دیکھیں تو یہ بات معمولی بھی نہیں ہے کیونکہ یہ ایک مسلم سچائی ہے کہ اگر چھوٹی چھوٹی باتوں میں ادب و احترام اور آداب کا خیال نہ رکھا جاوے تو پھر آہستہ آہستہ بڑی باتوں تک اس کا اثر پہنچتا ہے اور دل پر ایک زنگ لگنا شروع ہو جاتا ہے۔علاوہ ازیں ملاقات کے وقت السلام علیکم کہنا اور خط لکھتے ہوئے السلام علیکم لکھنا شریعت کا حکم بھی ہے۔“ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کا یہ دستور تھا کہ آپ اپنے تمام خطوط میں بسم اللہ اور السلام علیکم لکھتے تھے۔اور خط کے نیچے دستخط کر کے تاریخ بھی ڈالتے تھے۔میں نے کوئی خط آپ کا بغیر بسم اللہ اور سلام اور تاریخ کے نہیں دیکھا۔اور آپ کو سلام لکھنے کی اتنی عادت تھی کہ مجھے یاد پڑتا ہے کہ آپ ایک دفعہ کسی ہندو مخالف کو خط لکھنے لگے تو خود بخود السلام علیکم لکھا گیا۔جسے آپ نے کاٹ دیا۔لیکن پھر لکھنے لگے تو پھر سلام لکھا گیا چنا نچہ آپ نے دوسری دفعہ اُسے پھر کاٹا لیکن جب آپ تیسری دفعہ لکھنے لگے تو پھر ہاتھ اسی طرح چل گیا۔آخر آپ نے ایک اور کاغذ لے کر ٹھہر ٹھہر کر خط لکھا۔یہ واقعہ مجھے یقینی طور پر یاد نہیں کہ کس کے ساتھ ہوا تھا لیکن میں نے کہیں ایسا دیکھا ضرور ہے اور غالب خیال پڑتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کو دیکھا تھا۔والله اعلم 300 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ جب میں شروع شروع میں قادیان آیا تھا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نماز کے وقت پہلی صف میں دوسرے مقتدیوں کے ساتھ مل کر کھڑے ہوا کرتے تھے۔لیکن پھر بعض باتیں ایسی ہوئیں کہ آپ نے اندر حجرہ میں امام کے ساتھ کھڑا ہونا شروع کر دیا اور جب حجرہ گرا کر تمام مسجد ایک کی گئی تو پھر بھی آپ بدستور امام کے ساتھ ہی کھڑے ہوتے رہے۔(خاکسار عرض کرتا ہے کہ اوائل میں مسجد مبارک بہت چھوٹی ہوتی تھی اور لمبی قلمدان کی صورت میں تھی جس