سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 267
سیرت المہدی 267 حصہ اوّل۔اور قضا کے حملے نے ایک جیتی جان کے ساتھ جن آرزوؤں اور ت<mark>من</mark>اؤں کا قتل عام کیا ہے۔صدائے ماتم مدتوں اس کی یادگار تازہ رکھے گی۔مرزا غ<mark>لا</mark>م احمد صاحب قادیانی کی رحلت اس قابل نہیں کہ اس سے سبق حاصل نہ کیا جاوے۔اور مٹانے کیلئے اسے امتداد زمانہ کے حوالے کر کے صبر کر لیا جاوے۔ایسے لوگ جن سے مذہبی یا عقلی دنیا میں انق<mark>لا</mark>ب <mark>پیدا</mark> ہو ہمیشہ دنیا میں نہیں آتے۔یہ نازش فرزندانِ تاریخ بہت کم <mark>من</mark>ظر عالم پر آتے ہیں۔اور جب آتے ہیں دنیا میں انق<mark>لا</mark>ب <mark>پیدا</mark> کر کے دکھا جاتے ہیں۔مرزا صاحب کی اس رفعت نے ان کے بعض دعاوی اور بعض معتقدات سے شدید اخت<mark>لا</mark>ف کے باوجود ہمیشہ کی مفارقت پر مسلمانوں کو ہاں تعلیم یافتہ اور روشن خیال مسلمانوں کو محسوس کرا دیا ہے کہ ان کا ایک بڑا شخص ان سے جدا ہو گیا ہے اور اس کے ساتھ مخالفین اس<mark>لا</mark>م کے مقابلہ پر اس<mark>لا</mark>م کی اس شاندار مدافعت کا جو اس کی ذات سے وابستہ تھی خاتمہ ہو گیا۔ان کی یہ خصوصیت کہ وہ اس<mark>لا</mark>م کے مخالفین کے برخ<mark>لا</mark>ف ایک فتح نصیب جرنیل کا فرض پورا کرتے رہے۔ہمیں مجبور کرتی ہے کہ اس احساس کا کھلم کھ<mark>لا</mark> اعتراف کیا جاوے تا کہ وہ مہتم بالشان تحریک جس نے ہمارے دش<mark>من</mark>وں کو عرصہ تک پست اور پائمال بنائے رکھا۔آئندہ بھی جاری رہے۔مرزا صاحب کا لٹریچر جو مسیحیوں اور آریوں کے مقابلہ پر ان سے ظہور میں آیا۔قبول عام کی سند حاصل کر چکا ہے اور اس خصوصیت میں وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں۔اس لٹریچر کی قدرو عظمت <mark>آج</mark> جبکہ وہ اپنا کام پورا کر چکا ہے۔ہمیں دل سے تسلیم کرنی پڑتی ہے اس مدافعت نے نہ صرف عیسائیت کے اس ابتدائی اثر کے پر نچے اڑا دئیے۔جو سلطنت کے سایہ میں ہونے کی وجہ سے حقیقت میں اس کی جان تھا بلکہ خود عیسائیت کا طلسم دھواں ہو کر اُڑنے لگا غرض مرزا صاحب کی یہ خدمت آنیوالی نسلوں کو گراں بار احسان رکھے گی کہ انہوں نے قلمی جہاد کرنے والوں کی پہلی صف میں شامل ہو کر اس<mark>لا</mark>م کی طرف سے فرض مدافعت ادا کیا اور ایسا لٹریچر یاد گار چھوڑا کہ جو اس وقت تک کہ مسلمانوں کی رگوں میں زندہ خون رہے اور حمایت اس<mark>لا</mark>م کا جذبہ ان کے شعار قومی کا عنوان نظر آئے ، قائم رہے گا۔