سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 250 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 250

سیرت المہدی 250 حصہ اوّل حق یہ ہے کہ دعوی مسیحیت کے متعلق سب سے پہلا پبلک اعلان فتح اسلام کے ذریعہ ہوا۔اس کے بعد توضیح مرام کی اشاعت ہوئی پھر بعض اشتہارات ہوئے اور پھر ازالہ اوہام کی اشاعت ہوئی۔ایک اور بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ فتح اسلام میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ اور وفات مسیح کا عقیدہ بہت صراحت کے ساتھ بیان نہیں ہوئے۔اور نہ یہ اعلان ایسی صورت میں ہوا ہے کہ جو ایک انقلابی رنگ رکھتا ہو۔جس سے ایسا سمجھا جاوے کہ گویا اب ایک نیا دور شروع ہونے کا اعلان کیا جاتا ہے۔بلکہ محض سلسلہ کلام میں یہ باتیں بیان ہوگئی ہیں۔نہ پوری صراحت ہے نہ تحدی ہے نہ ادلہ ہیں۔اس کے بعد تو ضیح مرام میں زیادہ وضاحت ہے اور پھر بالآخر ازالہ اوہام میں یہ باتیں نہایت زور شور کے ساتھ معہ ادلہ بیان کی گئی ہیں۔میں نے اس کی بہت تلاش کی کہ کوئی ایسا ابتدائی اعلان ملے کہ جس میں مثلاً ایک نئے انکشاف کے طور پر حضرت صاحب نے یہ اعلان کیا ہو کہ مجھے اللہ نے بتایا ہے کہ مسیح ناصری فوت ہو چکا ہے اور آنے والا موعود مسیح موعود میں ہوں۔یعنی کوئی ایسا رنگ ہو جو یہ ظاہر کرے کہ اب ایک نئے دور کا اعلان ہوتا ہے۔مگر مجھے ایسی صورت نظر نہیں آئی۔بلکہ سب سے پہلا اعلان رسالہ فتح اسلام ثابت ہوا۔مگر اسے دیکھا گیا۔تو ایسے رنگ میں پایا گیا جواو پر بیان ہوا ہے یعنی اس میں یہ باتیں ایسے طور پر بیان ہوئی ہیں کہ گویا کوئی نیادور اور نیا اعلان نہیں ہے بلکہ اپنے خدا داد منصب مجددیت کا بیان کرتے ہوئے یہ باتیں بھی سلسلہ کلام میں بیان ہو گئی ہیں۔جس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ حضرت صاحب کو اپنے مسیح موعود ہونے کے متعلق الہامات تو شروع سے ہی ہورہے تھے صرف ان کی تشریح اب ہوئی تھی۔279 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب حضرت مسیح موعود نے دعوئی مسیحیت اور وفات مسیح ناصری کے عقیدہ کا اعلان کیا تو ملک میں ایک سخت طوفان بے تمیزی بر پا ہو گیا۔اس سے پہلے بھی گومسلمانوں کے ایک طبقہ میں آپ کی مخالفت تھی لیکن اول تو وہ بہت محدود تھی۔دوسرے وہ ایسی شدید اور پُر جوش نہ تھی لیکن اس دعوی کے بعد تو گویا ساری اسلامی دنیا میں ایک جوش عظیم پیدا ہو گیا۔اور حضرت مسیح موعود کو اوّل لدھیانہ میں پھر دہلی میں اور پھر لاہور میں پر زور مباحثات کرنے پڑے مگر جب مولویوں نے دیکھا۔کہ حضرت مسیح موعود اس طرح مولویوں کے رعب میں آنے والے نہیں اور لوگوں پر آپ کی