سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 250
سیرت المہدی 250 حصہ اوّل حق یہ ہے کہ دعوی مسیحیت کے متعلق سب سے پہ<mark>لا</mark> پبلک اع<mark>لا</mark>ن فتح اس<mark>لا</mark>م کے ذریعہ <mark>ہوا</mark>۔اس کے بعد توضیح مرام کی اشاعت ہوئی پھر بعض اشتہارات ہوئے اور پھر ازالہ اوہام کی اشاعت ہوئی۔ایک اور بات یاد رکھنے کے <mark>لا</mark>ئق ہے کہ فتح اس<mark>لا</mark>م میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ اور وفات مسیح کا عقیدہ بہت صراحت کے ساتھ بیان نہیں ہوئے۔اور نہ یہ اع<mark>لا</mark>ن ایسی صورت میں <mark>ہوا</mark> ہے کہ جو ایک انق<mark>لا</mark>بی رنگ رکھتا ہو۔جس سے ایسا سمجھا جاوے کہ گویا اب ایک نیا دور شروع ہونے کا اع<mark>لا</mark>ن کیا جاتا ہے۔بلکہ محض سلسلہ ک<mark>لا</mark>م میں یہ باتیں بیان ہوگئی ہیں۔نہ پوری صراحت ہے نہ تحدی ہے نہ ادلہ ہیں۔اس کے بعد تو ضیح مرام میں زیادہ وضاحت ہے اور پھر بالآخر ازالہ اوہام میں یہ باتیں نہایت زور شور کے ساتھ معہ ادلہ بیان کی گئی ہیں۔میں نے اس کی بہت ت<mark>لا</mark>ش کی کہ کوئی ایسا ابتدائی اع<mark>لا</mark>ن ملے کہ جس میں مث<mark>لا</mark>ً ایک نئے انکشاف کے طور پر حضرت صاحب نے یہ اع<mark>لا</mark>ن کیا ہو کہ مجھے اللہ نے بتایا ہے کہ مسیح ناصری فوت ہو چکا ہے اور آنے وا<mark>لا</mark> موعود مسیح موعود میں ہوں۔یعنی کوئی ایسا رنگ ہو جو یہ ظاہر کرے کہ اب ایک نئے دور کا اع<mark>لا</mark>ن ہوتا ہے۔مگر مجھے ایسی صورت نظر نہیں آئی۔بلکہ سب سے پہ<mark>لا</mark> اع<mark>لا</mark>ن رسالہ فتح اس<mark>لا</mark>م ثابت <mark>ہوا</mark>۔مگر اسے دیکھا گیا۔تو ایسے رنگ میں پایا گیا جواو پر بیان <mark>ہوا</mark> ہے یعنی اس میں یہ باتیں ایسے طور پر بیان ہوئی ہیں کہ گویا کوئی نیادور اور نیا اع<mark>لا</mark>ن نہیں ہے بلکہ اپنے خدا داد <mark>من</mark>صب مجددیت کا بیان کرتے ہوئے یہ باتیں بھی سلسلہ ک<mark>لا</mark>م میں بیان ہو گئی ہیں۔جس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ حضرت صاحب کو اپنے مسیح موعود ہونے کے متعلق الہامات تو شروع سے ہی ہورہے تھے صرف ان کی تشریح اب ہوئی تھی۔279 بسم اللہ الرح<mark>من</mark> الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب حضرت مسیح موعود نے دعوئی مسیحیت اور وفات مسیح ناصری کے عقیدہ کا اع<mark>لا</mark>ن کیا تو ملک میں ایک سخت طوفان بے تمیزی بر پا ہو گیا۔اس سے پہلے بھی گومسلمانوں کے ایک طبقہ میں آپ کی مخالفت تھی لیکن اول تو وہ بہت محدود تھی۔دوسرے وہ ایسی شدید اور پُر جوش نہ تھی لیکن اس دعوی کے بعد تو گویا ساری اس<mark>لا</mark>می دنیا میں ایک جوش عظیم <mark>پیدا</mark> ہو گیا۔اور حضرت مسیح موعود کو اوّل لدھیانہ میں پھر دہلی میں اور پھر <mark>لا</mark>ہور میں پر زور مباحثات کرنے پڑے مگر جب مولویوں نے دیکھا۔کہ حضرت مسیح موعود اس طرح مولویوں کے رعب میں آنے والے نہیں اور لوگوں پر آپ کی