سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 245 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 245

سیرت المہدی 245 حصہ اوّل چکے تھے۔اور طبیعت ظریف رکھتے تھے وہ ایک دفعہ حضرت صاحب کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ آپ نے خلاف قرآن شریف وفات مسیح کا یہ کیا عقیدہ نکالا ہے۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ ” میں نے قرآن شریف کے خلاف کچھ نہیں کہا۔بلکہ میں تو اب بھی تیار ہوں کہ اگر کوئی شخص قرآن سے حیات مسیح ثابت کر دے۔تو فوراً اپنے عقیدہ سے رجوع کرلوں گا۔مولوی نظام الدین نے خوش ہو کر کہا کہ کیا واقعی آپ قرآن شریف کی آیات کے سامنے اپنے خیالات کو ترک کر دیں گے؟ حضرت صاحب نے کہا۔ہاں میں ضرور ایسا کروں گا۔مولوی نظام الدین نے کہا۔اچھا پھر کیا ہے۔میں ابھی مولوی محمد حسین کے پاس جاتا ہوں۔اور پچاس آیتیں قرآن کریم کی حیات مسیح " کے ثبوت میں لکھوا لاتا ہوں۔حضرت صاحب نے فرمایا پچاس کی ضرورت نہیں۔میں تو اگر ایک آیت بھی نکل آئے گی تو مان لونگا۔اس پر مولوی نظام الدین خوشی خوشی اٹھ کر چلے گئے اور کچھ عرصہ کے بعد سر نیچے ڈالے واپس آئے۔حضرت صاحب نے فرمایا کیوں مولوی صاحب آپ آمیتیں لے آئے۔مولوی صاحب نے کہا کہ میں نے مولوی محمد حسین صاحب سے جا کر یہ کہا تھا کہ مولوی صاحب! میں نے مرزا صاحب کو بالکل قابو کر لیا ہے اور یہ اقرار کر والیا ہے کہ اگر میں قرآن کریم کی ایک آیت بھی ایسی پیش کر دوں جس میں حیات مسیح ثابت ہو تو وہ مان لیں گے اور اپنے عقائد سے تو بہ کر لیں گے۔مگر میں نے انہیں کہا تھا کہ ایک آیت کیا میں پچاس آیتیں لاتا ہوں۔سو آپ جلد آئیتیں نکال دیں تا میں ابھی ان کے پاس جا کر اُن سے تو بہ کرالوں۔اس پر مولوی صاحب نے سخت برہم ہو کر کہا کہ اے الو ! تم نے یہ کیا کیا۔ہم تو اسے قرآن سے نکال کر حدیثوں کی طرف لاتے ہیں اور تم اسے پھر قرآن کی طرف لے آئے۔میں نے کہا کہ مولوی صاحب! تو کیا قرآن میں کوئی آیت مسیح “ کی حیات ثابت نہیں کرتی ؟ مولوی صاحب نے کہا تم تو بے وقوف ہو۔اسے حدیثوں کی طرف لانا تھا کیونکہ قرآن میں اس کا ذکر نہیں ہے۔مولوی نظام الدین نے کہا کہ میں نے کہا کہ ہم تو پھر قرآن کے ساتھ ہیں۔جب قرآن سے مسیح کی وفات ثابت ہوتی ہے تو ہم اس کے مخالف حدیثوں کو کیا کریں۔اس پر مولوی صاحب نے مجھے گالیاں دینی شروع کر دیں اور کہا کہ تو بے وقوف ہے تجھے سمجھ نہیں وغیرہ وغیرہ۔میاں عبداللہ صاحب کہتے ہیں کہ اس کے بعد مولوی نظام الدین صاحب نے حضرت صاحب کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔