سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 243 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 243

سیرت المہدی 243 حصہ اوّل کچھ ہو میں تو ابھی جاؤں گا چنانچہ میں اسی وقت پیدل روانہ ہو گیا اور قریباً رات کے دس گیارہ بجے بارش سے تر بتر اور سردی سے کانپتا ہوا بٹالہ پہنچا اور اسی وقت پادری مذکور کی کوٹھی پر گیا وہاں پادری کے خانسامہ نے میری بڑی خاطر کی اور مجھے سونے کیلئے جگہ دی اور کھانا دیا اور بہت آرام پہنچایا اور وعدہ کیا کہ صبح پادری صاحب سے ملاقات کراؤں گا۔چنانچہ صبح ہی اس نے مجھے پادری سے ملایا۔اس وقت پادری کے پاس اس کی میم بھی بیٹھی تھی۔میں نے اسی طریق پر جس طرح حضرت صاحب نے مجھے سمجھایا تھا۔اس سے گفتگو کی مگر اس نے انکار کیا اور کہا کہ ہم ان باتوں میں نہیں آتے۔میں نے اسے بہت غیرت دلائی اور عیسائیت کی فتح ہو جانے کی صورت میں اپنے آپ کو حق کے قبول کر لینے کے لئے تیار ظاہر کیا مگر وہ انکار ہی کرتا چلا گیا۔آخر میں مایوس ہو کر قادیان آگیا اور حضرت صاحب سے سارا قصہ عرض کر دیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ واقعہ غالبًا سلسلہ بیعت سے پہلے کا ہے۔272 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ انبالہ کے ایک شخص نے حضرت صاحب سے فتوئی دریافت کیا کہ میری ایک بہن کنچنی تھی اس نے اس حالت میں بہت سا روپیہ کمایا پھر وہ مرگئی اور مجھے اس کا ترکہ ملا مگر بعد میں مجھے اللہ تعالیٰ نے تو بہ اور اصلاح کی توفیق دی۔اب میں اس مال کو کیا کروں؟ حضرت صاحب نے جواب دیا کہ ہمارے خیال میں اس زمانہ میں ایسا مال اسلام کی خدمت میں خرچ ہو سکتا ہے اور پھر مثال دے کر بیان کیا کہ اگر کسی شخص پر کوئی سگِ دیوانہ حملہ کرے اور اس کے پاس اس وقت کوئی چیز اپنے دفاع کیلئے نہ ہو نہ سوٹی نہ پتھر وغیرہ صرف چند نجاست میں پڑے ہوئے پیسے اس کے قریب ہوں تو کیا وہ اپنی جان کی حفاظت کیلئے ان پیسوں کو اٹھا کر اس کتے کو نہ دے مارے گا اور اس وجہ سے رک جاوے گا کہ یہ پیسے ایک نجاست کی نالی میں پڑے ہوئے ہیں ہرگز نہیں۔پس اسی طرح اس زمانہ میں جو اسلام کی حالت ہے اسے مد نظر رکھتے ہوئے ہم یہ کہتے ہیں کہ اس روپیہ کو خدمت اسلام میں لگایا جاسکتا ہے۔میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا کہ اس زمانہ میں جب کی یہ بات ہے آج کل والے انگریزی پیسے زیادہ رائج نہ تھے بلکہ موٹے موٹے بھرے سے پیسے چلتے تھے جن کو