سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 238 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 238

سیرت المہدی 238 حصہ اوّل سلطان احمد بلکہ عزیز احمد کو بھی اسی نے جنا یا تھا۔ایک دفعہ حضرت صاحب نے اس سے اپنی پیدائش کے متعلق کچھ شہادت بھی لی تھی۔اپنے فن میں وہ اچھی ہوشیار عورت تھی۔چنانچہ ایک دفعہ یہاں کسی عورت کے بچہ پھنس گیا اور پیدا نہ ہوتا تھا تو حضرت صاحب نے فرمایا تھا کہ لاڈو کو بلا کر دکھاؤ۔ہوشیار ہے چنانچہ اسے بلایا گیا تو اللہ کے فضل سے بچہ آسانی سے پیدا ہو گیا۔مگر والدہ صاحبہ کہتی تھیں کہ تم میں سے کسی کی پیدائش کے وقت اسے نہیں بلایا گیا۔کیونکہ بعض وجوہات سے اس پر کچھ شبہ پیدا ہو گیا تھا۔نیز والدہ صاحبہ نے بیان کیا کہ عزیز احمد کی پیدائش کے وقت جب لا ڈو آئی تو ان دنوں میں اسے خارش کی مرض تھی۔چنانچہ اس سے عزیز احمد کو خارش ہوگئی اور پھر آہستہ آہستہ تمہارے تایا کے گھر میں اکثر لوگوں کو خارش ہو گئی اور آخر ادھر سے ہمارے گھر میں بھی خارش کا اثر پہنچا۔چنانچہ حضرت صاحب کو بھی ان دنوں میں خارش کی تکلیف ہوگئی تھی۔263 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت والدہ صاحبہ کا نام نصرت جہاں بیگم ہے اور والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ ان کا مہر میر صاحب کی تجویز پر گیارہ سوروپیہ مقرر ہوا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ہمارے نانا جان صاحب کا نام میر ناصر نواب ہے۔میر صاحب خواجہ میر در دصاحب دہلوی کے خاندان سے ہیں۔اور پنجاب کے محکمہ نہر میں ملازم تھے۔اور قریباً عرصہ پچیس سال سے پنشن پر ہیں۔شروع شروع میں میر صاحب نے حضرت مسیح موعود کی کچھ مخالفت کی تھی۔لیکن جلد ہی تائب ہو کر بیعت میں شامل ہو گئے۔204 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبد اللہ صاحب سنوری نے کہ پٹیالہ میں خلیفہ محمد حسین صاحب وزیر پٹیالہ کے مصاحبوں اور ملاقاتیوں میں ایک مولوی عبدالعزیز صاحب ہوتے تھے۔جو کرم ضلع لدھیانہ کے رہنے والے تھے۔ان کا ایک دوست تھا۔جو بڑا امیر کبیر اور صاحب جائیداد تھا اور لاکھوں روپے کا مالک تھا۔مگر اس کے کوئی لڑکا نہ تھا۔جو اُس کا وارث ہوتا۔اس نے مولوی عبد العزیز صاحب سے کہا کہ مرزا صاحب سے میرے لئے دعا کرواؤ کہ میرے لڑکا ہو جاوے۔مولوی عبدالعزیز نے مجھے بلا کر کہا کہ ہم تمہیں کرایہ دیتے ہیں۔تم قادیان جاؤ اور مرزا صاحب سے اس بارہ میں خاص طور پر دعا کے لئے کہو۔چنانچہ میں قادیان آیا اور حضرت صاحب سے سارا ماجرا عرض کر کے دعا کے لئے کہا۔آپ