سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 237
سیرت المہدی 237 حصہ اوّل حضرت والد مخدوم من سلامت ! مراسم غلامانہ وقواعد فدویا نہ بجا آورده معروض حضرت والا میکند چونکہ در میں ایام برای العین می بینم و چشم سر مشاہدہ میکنم که در همه ممالک و بلا د ہر سال چناں وبائے مے افتد کہ دوستان را از دوستان و خویشان را از خویشان جدا میکند و هیچ سالے نہ می بینم کہ ایس نائزہ عظیم و چنیں حادثہ الیم در آن سال شور قیامت نیگفتند - نظر بر آن دل از دنیا سرد شده و رواز خوف جان زرد۔واکثر ایں دو مصرع مصلح الدین سعدی شیرازی بیاد می آیند و اشک حسرت ریخته می شود مکن تکیه بر عمرنا پا ئیدار مباش ایمن از بازی روزگار و نیز این دو مصرع ثانی از دیوان فرخ قادیانی نمک پاش جراحت دل میشود بدنیائے دوں دل مبند اے جواں کہ وقت اجل میرسد ناگہاں لہذا میخواهم که بقیه عمر در گوشته تنهائی نشینیم و دامن از صحبت مردم چینم و بیادا وسبحانه مشغول شوم مگر گذشته را عذرے و مافات را تدار کے شود۔عمر بگذشت و نماند است جز آیا می چند به که در یاد کسے صبح کنم شامے چند کہ دنیارا اساسے محکم نیست و زندگی را اعتبارے نے وَاَیسَ مَنْ خَافَ عَلَى نَفْسِهِ مِنْ آفَتِ غَيْرِهِ والسلام خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے شیخ صاحب سے دریافت کیا تھا کہ آپ نے یہ روایت کہاں سے لی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ مرزا سلطان احمد صاحب نے مجھے چند پرانے کاغذات دیئے تھے جن میں سے حضرت کی یہ تحریر کی تھی لیکن خاکسار کی رائے میں اگر حضرت صاحب کی صرف تحریر ملی ہے تو اس سے یہ استدلال ضروری نہیں ہوتا کہ آپ نے یہ خط اپنے والد صاحب کے پیش بھی کیا تھا بلکہ خط کے نیچے دستخط اور تاریخ کا نہ ہونا اس شبہ کو قوی کرتا ہے۔262 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت صاحب کی دائی کا نام لا ڈو تھا اور وہ ہا کونا کو بر والوں کی ماں تھی۔جب میں نے اسے دیکھا تھا تو وہ بہت بوڑھی ہو چکی تھی۔مرزا