سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 236
سیرت المہدی 236 حصہ اوّل رائیگاں گیا مگر میں دیکھ رہا ہوں کہ دلائل و براہین کی فتح کے تو نمایاں طور پر نشانات ظاہر ہورہے ہیں اور دشمن بھی اپنی کمزوری محسوس کرنے لگا ہے لیکن جو ہماری بعثت کی اصل غرض ہے اسکے متعلق ابھی تک جماعت میں بہت کمی ہے اور بڑی توجہ کی ضرورت ہے پس یہ خیال ہے جو مجھے آجکل کھا رہا ہے اور یہ اس قدر غالب ہورہا ہے کہ کسی وقت بھی مجھے نہیں چھوڑتا۔259 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب مولوی عبداللطیف صاحب مرحوم کی شہادت کی خبر آئی تو ایک طرف تو حضرت صاحب کو سخت صدمہ پہنچا کہ ایک مخلص دوست جدا ہو گیا اور دوسری طرف آپکو پرلے درجہ کی خوشی ہوئی کہ آپ کے متبعین میں سے ایک شخص نے ایمان و اخلاص کا یہ اعلیٰ نمونہ دکھایا کہ سخت سے سخت دکھ اور مصائب جھیلے اور بالآخر جان دیدی مگر ایمان کو ہاتھ سے نہ چھوڑا۔260 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ جس وقت مولوی عبداللطیف صاحب واپس کا بل جانے لگے تو وہ کہتے تھے کہ میرا دل یہ کہتا ہے کہ میں اب زندہ نہیں رہوں گا۔میری موت آن پہنچی ہے اور وہ حضرت صاحب کی اس ملاقات کو آخری ملاقات سمجھتے تھے۔جب رخصت ہونے لگے اور حضرت صاحب ان کو آگے چھوڑنے کیلئے کچھ دور تشریف لے گئے تو وہ رخصت ہوتے ہوئے حضرت صاحب کے قدموں پر گر گئے اور زار زار روئے۔حضرت صاحب نے ان کو اُٹھنے کیلئے کہا اور فرمایا کہ ایسانہیں کرنا چاہیے مگر وہ آپ کے قدموں پر گرے رہے آخر آپ نے فرمایا الامر فَوْقَ الْآدَبِ اس پر وہ اُٹھ کھڑے ہوئے اور بڑی حسرت کے ساتھ حضرت صاحب سے رخصت ہوئے۔(خاکسار عرض کرتا ہے کہ ان دنوں میں چونکہ قادیان میں ریل نہیں آئی تھی۔آمد ورفت کے لئے بٹالہ اور قادیان کے درمیان کا کچا رستہ استعمال ہوتا تھا۔اور حضرت صاحب بعض خاص خاص دوستوں کو رخصت کرنے کے لئے اسی راستہ کے موڑ تک یا بعض اوقات نہر تک پیدل چلے جاتے تھے۔) 261 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے شیخ یعقوب علی صاحب لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت صاحب نے اپنے والد صاحب کو مندرجہ ذیل خط لکھا تھا۔