سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 227
سیرت المہدی 227 حصہ اوّل اور عرض کیا کہ میں تو حضور سے سیڑھیوں پر ملا تھا جب حضور ان افغان صاحب کو رخصت فرما رہے تھے۔حضرت صاحب نے فرمایا۔اچھا! میں نے خیال نہیں کیا اور پھر حسب معمول بڑی خوشی اور بشاشت کے ساتھ مجھ سے کلام فرمایا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کو مہمانوں کے آنے پر بڑی خوشی ہوتی تھی اور رخصت کے وقت دل کو صدمہ ہوتا تھا۔چنانچہ جب حضرت خلیفہ ثانی کی آمین پر بعض مہمان قادیان آئے تو اس پر آپ نے آمین میں فرمایا احباب سارے آئے تو نے یہ دن دکھائے تیرے کرم نے پیارے یہ مہرباں بلائے یہ دن چڑھا مبارک مقصود جس میں پائے یہ روز کر مبارک سبـــحــــان مـــن یــرانــی مہماں جو کر کے الفت آئے بصد محبت دل کو ہوئی ہے فرحت اور جاں کو میری راحت پر دل کو پہنچے غم جب یاد آئے وقت رخصت یہ روز کر مبارک سبـــحـــان مـــن یـرانــی دنیا بھی ایک سرا ہے بچھڑے گا جو ملا ہے گو سو برس رہا ہے آخر کو پھر جدا ہے شکوہ کی کچھ نہیں جا یہ گھر ہی بے بقا ہے یہ روز کر مبارک سبـحـــان مــن یــرانـی 247 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود جب کسی سے ملتے تھے تو مسکراتے ہوئے ملتے تھے اور ساتھ ہی ملنے والے کی ساری کلفتیں دور ہو جاتی تھیں، ہر احمدی یہ محسوس کرتا تھا کہ آپ کی مجلس میں جا کر دل کے سارے غم ڈھل جاتے ہیں۔بس آپ کے مسکراتے ہوئے چہرے پر نظر پڑی اور سارے جسم میں مسرت کی ایک لہر جاری ہو گئی۔آپ کی عادت تھی کہ چھوٹے سے چھوٹے آدمی کی بات بھی توجہ سے سنتے تھے اور بڑی محبت سے جواب دیتے تھے۔ہر آدمی اپنی جگہ سمجھتا تھا کہ حضرت صاحب کو بس مجھی سے زیادہ محبت ہے۔بعض وقت آداب مجلس رسول سے ناواقف ، عامی لوگ دیر دیر تک اپنے لاتعلق قصے سناتے رہتے تھے اور حضرت صاحب خاموشی کے ساتھ بیٹھے سنتے رہتے اور کبھی کسی سے یہ نہ کہتے تھے کہ اب بس کرو۔نمازوں کے بعد یا بعض اوقات دوسرے موقعوں پر بھی حضور مسجد میں تشریف