سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 223
سیرت المہدی 223 حصہ اوّل د پٹی کمشنرز امرتسر شروع ہوئی اور بالآ خر ۲۳ اگست ۱۸۹۷ء کو آپ ایم ڈگلس ڈپٹی کمشنر گورداسپور کی عدالت سے بری کئے گئے۔اس مقدمہ کی مفصل کیفیت کتاب البریہ میں چھپ چکی ہے۔تیرے۔مقدمہ حفظ امن زیر دفعہ ۷ اضابطہ فوجداری۔جو بعدالت ہے۔ایم ڈوئی ڈپٹی کمشنر گورداسپور ۲۴ فروری ۱۸۹۹ء کو فیصل ہوا۔اور حضرت صاحب ضمانت کی ضرورت سے بری قرار دیئے گئے۔یہ مقدمہ محمد بخش تھا نہ دار بٹالہ کی رپورٹ مورخہ یکم دسمبر ۱۸۹۸ء و درخواست مولوی محمد حسین بٹالوی برائے اسلحہ خود حفاظتی مورخه ۵/ دسمبر ۱۸۹۸ء پر مبنی تھا۔اس کے متعلق حضرت صاحب نے اپنے اشتہار مورخہ ۲۶ فروری ۱۸۹۹ء میں ذکر کیا ہے اور الحکم کے نمبرات ماہ مارچ ۱۸۹۹ ء میں اس کی مفصل کیفیت درج ہے۔چوتھے وہ لمبا اور تکلیف دہ فوجداری مقدمہ جو کرم دین ساکن بھیں ضلع جہلم کی طرف سے اول اول جہلم میں اور پھر اس کے بعد گورداسپور میں چلایا گیا تھا اور بالآخر بعد الت اے۔ای ہری سیشن جج امرتسر ے جنوری ۱۹۰۵ء کو فیصل ہوا۔اور آپ بری کئے گئے۔ماتحت عدالت کا فیصلہ بعدالت آتما رام مجسٹریٹ درجه اول گورداسپور ۸ اکتو بر۱۹۰۴ء کو ہوا تھا۔اس مقدمہ کی کیفیت اخبار الحکم میں چھپتی رہی ہے یہ مقدمہ دراصل دوحصوں پر مشتمل تھا۔پر پانچویں۔وہ دیوانی مقدمہ جو حضرت صاحب کی طرف سے مرزا امام الدین ساکن قادیان کے خلاف دائر کیا گیا تھا۔اس کی بنا یہ تھی کہ مرزا امام الدین نے مسجد مبارک کے راستہ کو ایک دیوا رکھینچ کر ے جنوری ۱۹۰۰ء کو بند کر دیا تھا۔یہ مقدمہ ۱۲ اگست ۱۹۰۱ء کو بعدالت شیخ خدا بخش صاحب ڈسٹرکٹ حجج گورداسپور حضرت صاحب کے حق میں فیصل ہوا۔اور ۲۰ اگست ۱۹۰۱ء کو دیوار گرائی گئی۔اس کی کیفیت اخبار الحکم اور کچھ حقیقۃ الوحی میں شائع ہو چکی ہے۔چھٹے۔مقدمہ نکم ٹیکس جو ۷ار دسمبر ۱۸۹۷ء کو بعدالت ٹی۔ڈکسن ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور فیصل ہوا اور حضرت صاحب پر انکم ٹیکس لگانے کی ضرورت نہ سمجھی گئی۔اس کی کیفیت ضرورۃ الامام میں شائع ہو چکی ہے۔243) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ مبارکہ (خاکسار کی ہمشیرہ) کا چلہ