سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 219
سیرت المہدی 219 حصہ اوّل کہ ان کی تقریر میں کوئی ایسی زیادتی نہیں کہ قابل اعتراض ہو اس لئے خاص اللہ کے لئے بحث کو ترک کیا گیا۔رات کو خداوند کریم نے اپنے الہام اور مخاطبت میں اس ترک بحث کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ ”تیرا خدا تیرے اس فعل سے راضی ہوا اور وہ تجھے بہت برکت دے گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے پھر بعد اس کے کشف میں وہ بادشاہ دکھلائے گئے۔جوگھوڑوں پر سوار تھے۔“ 239 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میری نانی اماں صاحبہ نے کہ ایک دفعہ جب تمہارے نانا کی بدلی کا ہندوان میں ہوئی تھی۔میں بیمار ہوگئی تو تمہارے نانا مجھے ڈولی میں بٹھلا کر قادیان تمہارے دادا کے پاس علاج کے لئے لائے تھے۔اور اسی دن میں واپس چلی گئی تھی۔تمہارے دادا نے میری نبض دیکھ کر نسخہ لکھ دیا تھا۔اور تمہارے نانا کو یہاں اور ٹھہرنے کے لئے کہا تھا۔مگر ہم نہیں ٹھہر سکے۔کیونکہ پیچھے تمہاری اماں کو اکیلا چھوڑ آئے تھے۔نیز نانی اماں نے بیان کیا کہ جس وقت میں گھر میں آئی تھی میں نے حضرت صاحب کو پیٹھ کی طرف سے دیکھا تھا کہ ایک کمرے میں الگ بیٹھے ہوئے رحل پر قرآن شریف رکھ کر پڑھ رہے تھے۔میں نے گھر والیوں سے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ یہ مرزا صاحب کا چھوٹا لڑکا ہے اور بالکل ولی آدمی ہے۔قرآن ہی پڑھتا رہتا ہے۔نیز والدہ صاحبہ نے بیان کیا کہ مجھے اپنی اماں اور ابا کا مجھے اکیلا چھوڑ کر قادیان آنے کے متعلق صرف اتنا یاد ہے کہ میں شام کے قریب بہت روئی چلائی تھی کہ اتنے میں ابا گھوڑا بھگاتے ہوئے گھر میں پہنچ گئے اور مجھے کہا کہ ہم آگئے ہیں۔240 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یوں تو حضرت صاحب کی ساری عمر جہاد کی صف اول میں ہی گذری ہے۔لیکن با قاعدہ مناظرے آپ نے صرف پانچ کئے ہیں۔اول۔ماسٹر مرلی دھر آریہ کے ساتھ بمقام ہوشیار پور مارچ ۱۸۸۶ء میں۔اس کا ذکر آپ نے سرمہ چشم آریہ میں کیا ہے۔دوسرے۔مولوی محمد حسین بٹالوی کے ساتھ بمقام لدھیانہ ، جولائی ۱۸۹۱ء میں۔اس کی کیفیت رسالہ الحق لدھیانہ میں چھپ چکی ہے۔