سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 214
سیرت المہدی 214 حصہ اوّل نہیں منظور تھی گر تم کو اُلفت تو یہ مجھ کو بھی جتلایا تو ہوتا مری دلسوزیوں سے سے بے خبر ہو مرا کچھ بھید بھی پایا تو ہوتا دل اپنا اسکو دوں یا ہوش یا جاں کوئی اک حکم فرمایا تو ہوتا کوئی راضی ہو یا ناراض ہو وے رضا مندی خدا کی مدعا کر اس کاپی میں کئی شعر ناقص ہیں یعنی بعض جگہ مصرع اول موجود ہے مگر دوسرا نہیں ہے اور بعض جگہ دوسرا ہے مگر پہلا ندارد۔بعض اشعار نظر ثانی کیلئے بھی چھوڑے ہوئے معلوم ہوتے ہیں اور کئی جگہ فرخ تخلص مگر استعمال کیا ہے۔229 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے کہ تایا صاحب کی شادی بڑی دھوم دھام سے ہوئی تھی اور کئی دن تک جشن رہا تھا اور ۲۲ طائفے ارباب نشاط کے جمع تھے مگر والد صاحب کی شادی نہایت سادہ ہوئی تھی۔اور کسی قسم کی خلاف شریعت رسوم نہیں ہوئیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ بھی تصرف الہی تھاور نہ دادا صاحب کو دونوں بیٹے ایک سے تھے۔( نیز یہ طائفے ان لوگوں کی وجہ سے آئے ہوں گے جو ایسے تماشوں میں دلچسپی رکھتے ہیں ورنہ خود دادا صاحب کو ایسی باتوں میں شغف نہیں تھا۔) 230 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے کہ ہماری دادی صاحبہ بڑی مہمان نوازیخی اور غریب پرور تھیں۔231 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے کہ میں نے سنا ہوا ہے کہ ایک دفعہ والد صاحب سیشن عدالت میں اسیسر مقرر ہوئے تھے مگر آپ نے انکار کر دیا۔(اس جگہ دیکھوروایت نمبر۳۱۳) 232 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے کہ آخری عمر میں دادا صاحب نے ایک مسجد تعمیر کروانے کا ارادہ کیا اور اسکے لئے موجودہ