سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 210
سیرت المہدی 210 حصہ اوّل چھوڑتے نہیں۔اب آپ نے اس کا ہاتھ پکڑا ہے اس کی <mark>لا</mark>ج رکھنا۔پھر کہا کہ اس کی معافی ضبط ہو گئی ہے۔کیا معافیاں دیکر بھی ضبط کیا کرتے ہیں ؟ اس کی معافی بحال کر دیں۔ایجرٹن صاحب نے اس کی مسل طلب کر کے معافی بحال کر دی۔یہی ایجرٹن صاحب بعد میں پنجاب کا لفٹیننٹ گورنر ہو گیا تھا۔217 بسم اللہ الرح<mark>من</mark> الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے کہ دادا صاحب میں خود داری بہت تھی۔ایک دفعہ رابرٹ کسٹ صاحب کمشنر سے م<mark>لا</mark>قات کیلئے گئے۔باتوں باتوں میں اس نے پوچھا کہ قادیان سے سری گوبند پور کتنی دور ہے؟ دادا صاحب کو یہ سوال ناگوار <mark>ہوا</mark>۔فوراً بولے میں ہرکارہ نہیں اور س<mark>لا</mark>م کہہ کر رخصت ہونا چاہا۔صاحب نے کہا مرزا صاحب آپ ناراض ہو گئے ؟ دادا صاحب نے کہا کہ ہم آپ سے <mark>اپنی</mark> باتیں کرنے آتے ہیں اور آپ ادھر ادھر کی باتیں پوچھتے ہیں جو آپ نے مجھ سے پوچھا ہے وہ میرا کام نہیں ہے۔صاحب داداصاحب کے اس جواب پر خوش <mark>ہوا</mark>۔218 بسم اللہ الرح<mark>من</mark> الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے کہ ایک دفعہ جب ڈیوس صاحب اس ضلع میں مہتم بند و بست تھا اوران کا عملہ بٹالہ میں کام کرتا تھا۔قادیان کا ایک پٹواری جو قوم کا برہ<mark>من</mark> تھا اور محکمہ بندوبست مذکور میں کام کرتا تھا۔تایا صاحب مرزا غ<mark>لا</mark>م قادر صاحب کے ساتھ گستاخانہ رنگ میں پیش آیا۔تایا صاحب نے وہیں اسکی مرمت کر دی۔ڈیوس صاحب کے پاس شکایت گئی۔اُس نے تایا صاحب پر ایک سورو پیہ جرمانہ کر دیا۔دادا صاحب اُس وقت امرتسر میں تھے ان کو اط<mark>لا</mark>ع ہوئی تو فوراً ایجرٹن صاحب کے پاس چلے گئے اور حا<mark>لا</mark>ت سے اط<mark>لا</mark>ع دی اس نے دادا صاحب کے بیان پر ب<mark>لا</mark> طلب مسل جرمانہ معاف کر دیا۔219 بسم اللہ الرح<mark>من</mark> الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے کہ ایک دفعہ تا یا صاحب پولیس میں م<mark>لا</mark>زم تھے۔نسبٹ صاحب ڈپٹی کمشنر ضلع نے کسی بات پر اُن کو معطل کر دیا اس کے بعد جب نسبٹ صاحب قادیان آیا تو خود دادا صاحب سے ذکر کیا کہ میں نے آپ کے لڑکے کو معطل کر دیا ہے دادا صاحب نے کہا کہ اگر قصور ثابت ہے تو ایسی سخت سزا دینی چاہئے کہ