سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 209
سیرت المهدی 209 حصہ اوّل کرتے تھے چنانچہ ایک دفعہ جوتی ولد دولہ برہمن جس نے ایک دفعہ ہمارے خلاف کوئی شہادت دی تھی بیمار ہو گیا تو دادا صاحب نے اس کا بڑی ہمدردی سے علاج کیا اور بعض لوگوں نے جتلایا بھی کہ یہ وہی شخص ہے جس نے خلاف شہادت دی تھی۔مگر انہوں نے اس کی کوئی پروا نہیں کی۔ایسی ایسی اور بھی کئی مثالیں ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ دادا صاحب کی بلند ہمتی اور وسعت حوصلہ مشہور ہے۔215 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے کہ دادا صاحب شعر بھی کہا کرتے تھے اور تحسین تخلص کرتے تھے۔چنانچہ ان کے دوشعر مجھے یاد ہیں۔اے وائے کہ مابه ما چه کردیم دردسر من مشو طبيبا کردیم ناکردنی ہمہ عمر این درد دل است در دسر نیست خاکسار عرض کرتا ہے کہ دادا صاحب کے بعض شعر حضرت صاحب نے بھی نقل کئے ہیں۔اور مرزا سلطان احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ اُن کا کلام جمع کر کے حافظ عمر دراز صاحب ایڈیٹر پنجابی اخبار کو دیا تھا مگر وہ فوت ہو گئے۔اور پھر نہ معلوم وہ کہاں گیا۔نیز مرزا سلطان احمد صاحب نے بیان کیا کہ تایا صاحب بھی شعر کہتے تھے انکا تخلص مفتون تھا۔نیز بیان کیا کہ ایک دفعہ ایک ایرانی قادیان میں آیا تھا وہ دادا صاحب سے کہتا تھا کہ آپ کا فارسی کلام ایسا ہی فصیح ہے جیسا کہ ایرانی شاعروں کا ہوتا ہے۔216 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے کہ ایک دفعہ بٹالہ کے ایک ہندو حجام نے دادا صاحب سے کہا کہ میری معافی ضبط ہوگئی ہے آپ ایجرٹن صاحب فنانشل کمشنر سے میری سفارش کریں۔دادا صاحب اُسے اپنے ساتھ لاہور لے گئے۔اُس وقت لاہور کے شالا مار باغ میں ایک جلسہ ہو رہا تھا۔دادا صاحب نے وہاں جا کر جلسہ کی کارروائی ختم ہونے کے بعد ایجرٹن صاحب سے کہا کہ آپ اس شخص کا ہاتھ پکڑ لیں۔صاحب گھبرایا کہ کیا معاملہ ہے مگر دادا صاحب نے اصرار سے کہا تو اس نے ان کی خاطر اس حجام کا ہاتھ پکڑ لیا۔اس کے بعد دادا صاحب نے صاحب سے کہا کہ ہمارے ملک میں دستور ہے کہ جب کسی کا ہاتھ پکڑ لیتے ہیں تو پھر خواہ سر چلا جائے