سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 208
سیرت المہدی 208 حصہ اوّل بیان کیا کہ مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے سنا ہوا ہے کہ تمہارے تایا کے بعد تمہارے دادا کے ہاں دولڑ کے پیدا ہو کر فوت ہو گئے تھے اسی لئے میں نے سنا ہے کہ حضرت صاحب کی ولادت پر آپ کے زندہ رہنے کے متعلق بڑی منتیں مانی گئی تھیں اور گویا ترس ترس کر حضرت صاحب کی پرورش ہوئی تھی۔اگر تمہارے تایا اور حضرت صاحب کے درمیان کوئی غیر معمولی وقفہ نہ ہوتا یعنی بچے پیدا ہو کر فوت نہ ہوتے تو اس طرح منتیں ماننے اور ترسنے کی کوئی وجہ نہ تھی پس ضرور چند سال کا وقفہ ہوا ہو گا اور مرزا سلطان احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ شاید پانچ یا سات سال کا وقفہ تھا۔اور والدہ صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ مجھے جہاں تک یاد ہے وہ یہ ہے کہ سب سے پہلے تمہارے دادا کے ہاں ایک لڑکا ہوا جو فوت ہو گیا پھر تمہاری پھوپھی مراد بی بی ہوئیں پھر تمہارے تایا پیدا ہوئے پھر ایک دو بچے ہوئے جو فوت ہو گئے پھر حضرت صاحب اور جنت توام پیدا ہوئے اور جنت فوت ہوگئی اور والدہ صاحبہ کہتی ہیں کہ تمہاری تائی کہتی تھیں کہ تمہارے تایا اور حضرت صاحب اوپر تلے کے تھے مگر جب میں نے منتیں مانے اور ترسنے کا واقعہ سنایا تو انہوں نے اسے تسلیم کیا مگر اصل امر کے متعلق خاموش رہیں۔213 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطه مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے کہ ایک دفعہ بٹالہ کے راجہ تیجا سنگھ کو ایک خطر ناک قسم کا پھوڑا نکلا۔بہت علاج کئے گئے مگر کچھ فائدہ نہ ہوا آخر اس نے دادا صاحب کی خدمت میں آدمی بھیجا۔دادا صاحب گئے اور ( خدا کے فضل سے ) وہ اچھا ہو گیا۔اس پر راجہ مذکور نے دادا صاحب کو ایک بڑی رقم اور خلعت اور دو گاؤں شتاب کوٹ اور حسن پوریا حسن آباد جو آپکی قدیم ریاست کا ایک جزو تھے پیش کئے اور ان کے قبول کرنے پر اصرار کیا مگر دادا صاحب نے یہ کہہ کر صاف انکار کر دیا کہ میں ان دیہات کو علاج کے بدلے میں لینا اپنے اور اپنی اولاد کیلئے موجب ہتک سمجھتا ہوں۔214 بسم الله الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے کہ دادا صاحب نہایت وسیع الاخلاق تھے اور دشمن تک سے نیک سلوک کرنے میں دریغ نہ