سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 205 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 205

سیرت المہدی 205 حصہ اوّل 205 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے کہ والد صاحب عموماً غرارا پہنا کرتے تھے۔مگر سفروں میں بعض اوقات تنگ پاجامہ بھی پہنتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جیسا کہ ناظرین بھی سمجھتے ہوں گے۔مرزا سلطان احمد صاحب کی سب روایات حضرت مسیح موعود کے زمانہ شباب یا کہولت کے متعلق سمجھنی چاہئیں۔طفولیت یا بڑھاپے کی عمر کے متعلق اگر ان کی کوئی روایت ہو تو یہ سمجھنا چاہیے کہ عموماً انہوں نے وہ کسی اور سے سن کر بیان کی ہے۔کیونکہ اس زمانہ میں انکا تعلق حضرت مسیح موعود سے نہیں رہا تھا۔الا ماشاء اللہ۔206 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے نے کہ میں نے مرز اسلطان احمد صاحب سے سوال کیا تھا کہ حضرت صاحب سے زیادہ تر قادیان میں کن لوگوں کی ملاقات تھی؟ مرزا صاحب نے کہا کہ ملا وامل اور شرم پت ہی زیادہ آتے جاتے تھے کسی اور سے ایسا راہ و رسم نہ تھا۔207 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے نے کہ ان سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بیان کیا کہ ایک دفعہ مسٹر میکانکی ڈپٹی کمشنر گورداسپور قادیان دورہ پر آئے۔راستے میں انہوں نے دادا صاحب سے کہا کہ آپکے خیال میں سکھ حکومت اچھی تھی یا انگریزی حکومت اچھی ہے؟ دادا صاحب نے کہا کہ گاؤں چل کر جواب دوں گا۔جب قادیان پہنچے تو دادا صاحب نے اپنے اور اپنے بھائیوں کے مکانات دکھا کر کہا کہ یہ سکھوں کے وقت کے بنے ہوئے ہیں مجھے امید نہیں کہ آپ کے وقت میں میرے بیٹے ان کی مرمت بھی کر سکیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ سکھوں کی حکومت قدیم شاہی رنگ کے طرز پر تھی۔اب اور رنگ ہے اور ہر رنگ اپنی خوبیاں رکھتا ہے۔208 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے نے کہ ان سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بیان کیا کہ میں نے تحصیلداری کا امتحان ۱۸۸۴ء میں دیا تھا اس وقت میں نے والد صاحب کو دعا کیلئے ایک رقعہ لکھا تو انہوں نے رقعہ پھینک دیا اور فرمایا ”ہمیشہ دنیا داری ہی کے طالب