سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 201 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 201

سیرت المہدی 201 حصہ اوّل اوقات مجھے نماز کے لئے کہا کرتے تھے مگر میں نماز کے پاس تک نہ جاتا تھا۔ہاں ایک بات میں نے خاص طور پر دیکھی ہے کہ حضرت صاحب ( یعنی آنحضرت ﷺ کے متعلق والد صاحب ذراسی بات بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے۔اگر کوئی شخص آنحضرت ﷺ کی شان میں ذراسی بات بھی کہتا تھا تو والد صاحب کا چہرہ سرخ ہو جا تا تھا اور آنکھیں متغیر ہو جاتی تھیں اور فوراً ایسی مجلس سے اٹھ کر چلے جاتے تھے۔مولوی صاحب نے بیان کیا کہ مرزا صاحب نے اس مضمون کو بار بارد ہرایا اور کہا کہ حضرت صاحب سے تو بس والد صاحب کو عشق تھا۔ایسا عشق میں نے کبھی کسی شخص میں نہیں دیکھا۔خاکسار عرض کرتا ہے حضرت خلیفہ ثانی بیان کرتے تھے کہ جب دسمبر ۱۹۰۷ء میں آریوں نے وچھو والی لاہور میں جلسہ کیا اور دوسروں کو بھی دعوت دی تو حضرت صاحب نے بھی ان کی درخواست پر ایک مضمون لکھ کر حضرت مولوی صاحب خلیفہ اول کی امارت میں اپنی جماعت کے چند آدمیوں کو لاہور شرکت کے لئے بھیجا۔مگر آریوں نے خلاف وعدہ اپنے مضمون میں آنحضرت ﷺ کے متعلق سخت بد زبانی سے کام لیا۔اس کی رپورٹ جب حضرت صاحب کو پہنچی تو حضرت صاحب اپنی جماعت پر سخت ناراض ہوئے کہ ہماری جماعت کے لوگ اس مجلس سے کیوں نہ اُٹھ آئے اور فرمایا کہ یہ پرلے درجہ کی بے غیرتی ہے کہ آنحضرت ﷺ کو ایک مجلس میں برا کہا جاوے اور ایک مسلمان وہاں بیٹھا رہے اور غصہ سے آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ سخت ناراض ہوئے کہ کیوں ہمارے آدمیوں نے غیرت دینی سے کام نہ لیا۔جب انہوں نے بد زبانی شروع کی تھی تو فوراً اس مجلس سے اُٹھ آنا چاہیے تھا۔اور حضرت خلیفہ ثانی بیان کرتے تھے کہ میں اس وقت اٹھنے بھی لگا تھا مگر پھر مولوی صاحب کی وجہ سے ٹھہر گیا اور حافظ روشن علی صاحب بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت صاحب نارض ہو رہے تھے تو آپ نے مجھ سے کہا کہ حافظ صاحب وہ کیا آیت ہے کہ جب خدا کی آیات سے ٹھٹھا ہو تو اس مجلس میں نہ بیٹھو اس پر میں نے حَتَّى يَخُرُ ضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ (النساء: ۱۴۱) والی آیت پڑھ کر سنائی اور حافظ صاحب کہتے ہیں کہ اس وقت حضرت مولوی صاحب سر نیچے ڈالے بیٹھے تھے۔197 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے کہ میاں جان محمد والد صاحب کے ساتھ بہت رہتا تھا اور میاں جان محمد کا بھائی غفارہ