سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 199 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 199

سیرت المہدی 199 حصہ اوّل اس شخص کو میں نے اس سے قبل یا بعد کبھی نہیں دیکھا۔نیز فرماتے تھے کہ میں ایک دفعہ ایک گھوڑے پر سوار ہوا۔اس نے شوخی کی اور بے قابو ہو گیا۔میں نے بہت روکنا چاہا مگر وہ شرارت پر آمادہ تھا نہ رکا۔چنانچہ وہ اپنے پورے زور میں ایک درخت یا دیوار کی طرف بھاگا۔(الشَّكُ مِنی ) اور پھر اس زور کے ساتھ اس سے ٹکرایا کہ اس کا سر پھٹ گیا اور وہ وہیں مر گیا۔مگر مجھے اللہ تعالیٰ نے بچالیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب بہت نصیحت کیا کرتے تھے کہ سرکش اور شریر گھوڑے پر ہرگز نہیں چڑھنا چاہیے۔اور یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ اس گھوڑے کا مجھے مارنے کا ارادہ تھا۔مگر میں ایک طرف گر کر بچ گیا اور وہ مر گیا۔189 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے کہ والد صاحب باہر چوبارے میں رہتے تھے۔وہیں اُن کے لئے کھانا جاتا تھا۔اور جس قسم کا کھانا بھی ہوتا تھا کھا لیتے تھے۔کبھی کچھ نہیں کہتے تھے۔190 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے کہ والد صاحب تین کتابیں بہت کثرت کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔یعنی قرآن مجید مثنوی رومی اور دلائل الخیرات اور کچھ نوٹ بھی لیا کرتے تھے اور قرآن شریف بہت کثرت سے پڑھا کرتے تھے۔191 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے کہ والد صاحب میاں عبد اللہ صاحب غزنوی اور سماں والے فقیر سے ملنے کے لئے کبھی کبھی جایا کرتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کی ملاقات کا ذکر حضرت صاحب نے اپنی تحریرات میں کیا ہے۔اور سماں والے فقیر کے متعلق شیخ یعقوب علی صاحب نے لکھا ہے کہ اُن کا نام میاں شرف دین صاحب تھا اور وہ موضع سم نز د طالب پور ضلع گورداسپور کے رہنے والے تھے۔سم میں پانی کا ایک چشمہ ہے اور غالباً اسی وجہ سے وہ ٹم کہلاتا ہے۔192 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش