سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 190
سیرت المہدی 190 حصہ اوّل حصہ اور فرع ہے اور یہ بات حضرت صاحب کی تحریرات بلکہ خود الہامات سے اَظْهَرْ مِنَ الشَّمس ہو جاتی ہے اور جو شخص اس کے خلاف دعوی کرتا ہے بار ثبوت اس کے ذمہ ہے۔پس جب نکاح کی پیش گوئی مستقل پیشگوئی نہ ہوئی بلکہ تمام پیشگوئی کا حصہ اور فرع ہوئی تو اعتراض کوئی نہ رہا۔کیونکہ پیشگوئی کا منشاء یہ قرار پایا کہ مرزا سلطان محمد عذاب موت میں گرفتار ہوگا اور پھر حمدی بیگم حضرت مسیح موعود کے عقد میں آئے گی۔اور مرزا سلطان محمد کے عذاب موت میں مبتلا ہونے کی صورت میں کوئی چیز محمدی بیگم کے حضرت صاحب کی طرف لوٹنے میں روک نہ ہو سکے گی لیکن جب حالات کے بدل جانے پر مصلحت الہی نے قدرت نمائی کا منشاء پورا کرنے کے لئے عذاب کی صورت کو بدل دیا تو نکاح بھی جو عذاب والی صورت کا نتیجہ تھا منسوخ ہو گیا۔اصل غرض قدرت نمائی تھی اور باقی سب اُس وقت کے حالات کے ماتحت اُس کی علامات تھیں۔پس ہم کہتے ہیں کہ جب حالات کے بدل جانے سے اصل غرض اور علامات آپس میں ٹکرانے لگیں تو اصل غرض کو لے لیا گیا اور علامات کو چھوڑ دیا گیا اور یہی حکمت کی راہ ہے اور اگر کہو کہ ایسا کیوں نہ کیا گیا کہ وہی علامات مقرر کی جاتیں جو آخر تک ساتھ رہتیں تو اس کا جواب او پر گذر چکا ہے کہ چونکہ یہ پیش گوئی علم از لی کے اظہار کے لئے نہ تھی بلکہ قدرت نمائی کے لئے تھی۔اس لئے حالات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا تھا اور اگر حالات کو نظر انداز کیا جاتا تو پیشگوئی کی اصل غرض ( یعنی قدرت نمائی) فوت ہو کر پیشگوئی اظہار علم ازلی کے ماتحت آجاتی اور یہ مقصود نہ تھا۔خوب سوچ لو کہ قدرت کاملہ کا اظہار بغیر حالات کو مد نظر رکھنے کے ناممکن ہے کیونکہ یہ صورت دو تیجوں سے خالی نہیں یا تو خدا کو بغیر ارادے کے ایک مشین کی طرح ماننا پڑے گا اور یا پھر ظالم و سفاک قرار دینا ہوگا۔اور یہ دونوں باتیں قدرت کاملہ کے مفہوم کے منافی ہیں۔وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغ - اس جگہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ خاکسار نے پیشگوئیوں کے جو اصول بیان کئے ہیں اُن پر پیشگوئیوں کے اصول کا حصر نہیں ہے۔یعنی یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ پیشگوئیوں کے بس صرف یہی اصول ہیں جو بیان ہو گئے بلکہ یہاں تو صرف اس جگہ کے مناسب حال اور وہ بھی صرف خاص خاص اُصول بیان کئے گئے ہیں ورنہ اُن کے علاوہ اور بھی بہت سے اصول ہیں بلکہ ان بیان شدہ اصول کے بھی بہت سے اور پہلو