سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 187
سیرت المہدی 187 حصہ اوّل بلکہ عذاب کی وجہ فساد فی الارض اور تمرد ہے تو عذاب کے ٹلنے کیلئے ایمان لانے کی شرط ضروری قرار دینا محض جہالت ہے اور اگر یہ کہا جاوے کہ مرزا سلطان محمد نے گو بے شک اخلاق و عقیدت کا اظہار کیا اور تمرد نہیں دکھایا لیکن محمدی بیگم کو اپنے نکاح میں تو رکھا اور اس طرح گویا عملاً تمرد سے کام لیا۔تو یہ بات گذشتہ اعتراض سے بھی بڑھ کر جہالت کی بات ہوگی کیونکہ جب یہ ثابت ہو گیا کہ پیشگوئی کی غرض ہرگز محمدی بیگم کا نکاح نہ تھی بلکہ متمر درشتہ داروں کو اقتداری نشان دکھانا تھا تو پھر یہ کہنا کہ گو اس نے تمرد نہیں دکھایا مگر چونکہ محمدی بیگم کو اپنے نکاح میں رکھا اس لئے عذاب نہ ٹلنا چاہیے تھا۔ایک اہلہانہ بات ہے۔اگر غرض پیشگوئی کی یہ ہوتی کہ محمدی بیگم حضرت صاحب کے نکاح میں آجاوے تو پھر بے شک مرز اسلطان محمد کا فقط تمر دنہ دکھانا کسی کام نہ آتا جب تک وہ محمدی بیگم کو الگ نہ کرتا لیکن جب پیشگوئی کی یہ غرض ہی ثابت نہیں ہوتی تو پھر عذاب کے ٹلنے کو مرزا سلطان محمد کے محمدی بیگم سے علیحدہ ہو جانے کے ساتھ مشروط قرار دینا ایک عجیب منطق ہے۔جو ہماری سمجھ سے بالا ہے۔دراصل یہ سارے اعتراضات پیشگوئی کی غرض پر غور نہ کرنے سے پیدا ہوئے ہیں ورنہ بات کوئی مشکل نہ تھی۔اور یہ شبہ کہ اگر محض انکار سے اس دنیا میں عذاب نہیں آتا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس زمانہ کے مختلف عذابوں کو اپنی وجہ سے کیوں قرار دیا ہے ایک دھو کے پر مبنی ہے۔آج کل جو دنیا کے مختلف حصوں میں عذاب آرہے ہیں ان کو حضرت صاحب نے اپنی طرف اس لئے منسوب کیا ہے کہ یہ لوگوں کو جگانے کیلئے ہیں۔یعنی ان کی یہ غرض ہے کہ لوگ اپنی غفلتوں سے بیدار ہو جائیں اور حق کی تلاش میں لگ جاویں اور حق کے قبول کرنے کیلئے ان کے دل نرم ہو جاویں۔لہذا یہ عذاب اور نوعیت کا عذاب ہے جس کو اس دوسری قسم کے عذاب سے کوئی واسطہ نہیں۔یہ عام قومی عذاب تو صرف بیدار کرنے کیلئے آتے ہیں یعنی جب کبھی کوئی رسول آتا ہے تو خدا کی سنت ہے کہ اس کی قوم کو جن کی طرف وہ مبعوث ہو عذاب کے دھکوں سے بیدار کرتا ہے۔اسی لئے یہ قومی عذاب رسول کی بعثت کی علامت رکھے گئے ہیں ورنہ یہ عذاب تو بسا اوقات ایسے لوگوں کو بھی پہنچتے رہتے ہیں جن تک رسول کی تبلیغ بھی نہیں پہنچی ہوتی۔اور جن کی طرف سے رسول کے خلاف تمرد تو در کنار محض انکار بھی نہیں ہوا ہوتا۔پس ان عذابوں کو اس خاص عذاب کے ساتھ