سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 184 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 184

سیرت المہدی 184 حصہ اوّل سے جو روکیں ہیں اور نیز دوسری روکیں وہ دور ہونگی اور پھر لڑکی تیرے گھر آئے گی۔گویا یہ سب باتیں مرزا سلطان محمد کی ہلاکت کی شق کو مدنظر رکھ کر بیان کی گئیں تھیں اور جس طرح ہلاکت کے مقابل کی شق یعنی بچائے جانے کومخفی رکھا گیا۔اسی طرح بچائے جانے کے بعد جو کچھ وقوع میں آنا تھا اس کو بھی مخفی رکھا گیا یعنی ہلاکت والا پہلو اور اس کے نتائج بیان کر دیئے گئے اور بچائے جانے والا پہلو اور اس کے نتائج مخفی رکھے گئے۔اور یہ سراسر نادانی اور ظلم ہوگا اگر ہم یہ سمجھیں کہ لڑکی کے لوٹائے جانے کی جو پیشگوئی ہے وہ ہلاکت اور عدم ہلاکت دونوں پہلوؤں کا نتیجہ ہے۔کیونکہ جب عدم ہلاکت کا پہلو ہی مذکور نہیں تو اس کا نتیجہ کیونکر مذکور ہو سکتا ہے۔مذکور نتیجہ لا محالہ مذکور شق کے ساتھ وابستہ سمجھا جائے گا کیونکہ وہ اسی لڑی میں پر دیا ہوا ہے اور دوسری لڑی ساری کی ساری مخفی رکھی گئی ہے۔ہاں جب واقعات نے قدرت نمائی کیلئے مرزا سلطان محمد کے بچائے جانے والے پہلو کوظاہر کیا ( جو لفظائد کور نہیں تھا ) تو پھر اس پہلو کے وہ نتائج بھی ظاہر کئے گئے جو لفظاً مذکور نہیں تھے۔ہاں اگر عذاب والا پہلو ظاہر ہوتا تو پھر اس پہلو کے نتائج بھی ظاہر ہوتے۔لیکن جب وہ پہلو ہی ظاہر نہیں ہوا تو اس کے نتائج کس طرح ظاہر ہو جاتے اِذَا فَاتَ الشَّرْطُ فَاتَ الْمَشْرُوطُ اور تقدیر مبرم کے بھی یہی معنی ہیں کہ صرف ہلاکت والے پہلو کا حضرت صاحب کو علم دیا گیا تھا اور حقیقی واقعہ کا علم صرف خدا کو تھا۔پس حضرت صاحب کے لئے وہ تقدیر مبرم تھی اور ظاہر ہے کہ بعض اوقات مخاطب ، مخاطب کے علم کو مد نظر رکھ کر ایک لفظ بولتا ہے حالانکہ اس کے اپنے علم کے لحاظ سے وہ لفظ نہیں بولا جاسکتا۔دوسرے یہ کہ تقدیر مبرم سے ان خاص حالات میں یہ بھی مراد ہو سکتا ہے کہ جوشق مذکور ہے اس کے نتیجہ کے طور پر یہ تقدیر مبرم ہے نہ کہ مطلقا یعنی اگر ہلاکت والی شق ظہور میں آئے تو پھر یہ تقدیر مبرم ہے کہ وہ تیرے نکاح میں آئے گی اور چونکہ دوسری شق کو بالکل مخفی رکھا گیا تھا اس لئے محض مذکور شق کو مدنظر رکھ کر تقدیر مبرم کا لفظ استعمال کرنا کوئی جائے اعتراض نہیں ہو سکتا۔خلاصہ کلام یہ کہ محمدی بیگم کے حضرت صاحب کے نکاح میں آنے کے متعلق جتنے بھی الہامات ہیں وہ سب ابتدائی الہام کی فرع ہیں۔مستقل پیشگوئیاں نہیں ہیں اور ان سب کی بنیاد مرزا سلطان محمد کے عذاب میں مبتلا ہوکر ہلاک ہونے پر ہے۔پس جب مرزا سلطان محمد کی ہلاکت حالات کے بدل جانے سے