سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 181
سیرت المہدی 181 حصہ اوّل موقعوں پر اپنی عقیدت اور اخلاص کا اظہار کیا ہے اور باوجود حضرت مسیح موعود کے دشمنوں کی طرف سے رنگا رنگ میں طمع اور غیرت اور جوش دلائے جانے کے کبھی کوئی لفظ مرزا سلطان محمد کی زبان سے حضرت صاحب کے خلاف نہیں نکلا۔بلکہ جب کبھی کوئی لفظ منہ سے نکلا ہے۔تو تائید اور تعریف میں ہی نکلا ہے تو کیا کوئی عقل تجویز کر سکتی ہے کہ ایسے شخص کے متعلق خدا کی قدرت نمائی عذاب کی صورت میں ظاہر ہوگی ؟ ایک ظالم سے ظالم انسان بھی اپنے گرے ہوئے دشمن پر وار نہیں کرتا تو کیا خدا جو ارحم الراحمین ہے اس شخص پروار کرے گا جو اس کے سامنے گر کر اس کی پناہ میں آتا ہے؟ اور اگر یہ کہو کہ جب خدا کو یہ معلوم تھا کہ مرزا سلطان محمد کے رشتہ دار نہایت عقیدت اور عاجزی کے ساتھ حضرت صاحب کی طرف جھکیں گے اور رحم اور دعا کے طالب ہونگے اور خود مرزا سلطان محمد کا رویہ بھی حضرت مسیح موعود سے بڑا مخلصانہ ہو گا تو پھر کیوں اس کے متعلق ڈھائی سال میں ہلاک ہو جانے کی پیشگوئی کی گئی ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ شبہ اس لئے واقعہ ہوا ہے کہ پیشگوئی کی غرض کو نہیں سمجھا گیا۔پیشگوئی کی غرض جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے یہ نہ تھی کہ خدائے تعالیٰ اپنے علم از لی کا اظہار کرے بلکہ پیشگوئی کی غرض یہ تھی کہ قدرت الہی کا اظہار کیا جاوے۔جیسا کہ پیشگوئی کے الفاظ اور حالات سے بھی واضح ہوتا ہے کیونکہ اگر خدا کے علم از لی کا اظہار مقصود ہوتا تو صرف ایک بات جو بالآ خر وقوع میں آنی تھی بلا شرائط بتا دی جاتی لیکن ایسا نہیں کیا گیا بلکہ الفاظ کا مفہوم یہ تھا کہ اگر یہ لوگ مان لیں گے تو ان کیلئے یہ ایک رحمت کا نشان ہوگا اور اگر انکار کریں گے تو یہ ایک عذاب کا نشان ہوگا جس سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ علم از لی کا اظہار مقصود نہ تھا بلکہ قدرت نمائی مقصود تھی۔اسکے بعد اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس پیشگوئی کے متعلق امکاناً چار راستے کھلے تھے یعنی اول :۔آخری حالت کے لحاظ سے مرزا سلطان محمد کے متعلق جو بات فی الواقع ہونے والی تھی صرف وہ بتائی جاتی اور درمیانی حالات نظر انداز کر دیئے جاتے تا جب پیشگوئی کے مطابق وقوع میں آتا تو لوگوں کو پیشگوئی کے پورا ہونے کا یقین ہوتا اور وہ فائدہ اُٹھاتے۔دوئم:۔جب کہ مرزا سلطان محمد کے ڈھائی سال میں ہلاک ہو جانے کے متعلق پیشگوئی کر دی گئی تھی تو خواہ حالات کتنے بدلتے بہر حال اس کو پورا کیا جاتا یا خدائی تصرف حالات کو بدلنے ہی نہ دیتا اور اس طرح لوگوں کو ٹھوکر سے بچایا جاتا۔سوئم:۔اگر حالات بدلنے سے پیشگوئی کا حکم بدل جانا تھا تو اس کے متعلق پہلے ہی اطلاع دے دی جاتی یعنی پیشگوئی میں ہی ایسے الفاظ رکھ دیئے جاتے کہ مثلاً بشرطیکہ حق کی طرف