سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 180
سیرت المہدی 180 حصہ اوّل کے خلاف چل کر کیا کیا خدائی قہر و غضب کے نشان دیکھے۔مرزا احمد بیگ تاریخ نکاح سے چند ماہ کے اندراندرتپ محرقہ سے ہوشیار پور کے شفاخانہ میں رخصت ہوا اور محمدی بیگم کی والدہ اپنے پانچ چھ بچوں کے گراں بوجھ کے نیچے دبی ہوئی بیوہ رہ گئی اور ساری خوشیاں خاک میں مل گئیں اور علاوہ مرزا احمد بیگ کے اور بعض موتیں بھی اس خاندان میں ہوئیں اور بعض دوسرے مصائب بھی آئے۔دوسری طرف محمدی بیگم کے ماموؤں پر جس طرح خدائی عذاب کی تجلی ظاہر ہوئی وہ ایک نہایت عبرت انگیز کہانی ہے۔یہ تین بھائی تھے اور ان کا گھر اس وقت خانگی رونق اور چہل پہل کا ایک بہترین نمونہ تھا مگر پھر اسکے بعد ان پر خدائی چکی چلی اور وہ مختلف قسم کی تنگیوں اور مصیبتوں میں مبتلا ہوئے اور انکا گھر خالی ہونا شروع ہواحتی کہ وہ وقت آیا کہ سارے گھر میں صرف ایک یتیم بچہ رہ گیا اور باقی سب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کی دن دگنی رات چوگنی ترقی اور اپنی تباہی دیکھتے ہوئے رخصت ہوئے۔کیا یہ نظارے خدائی قدرت نمائیوں کی چمکتی ہوئی تجلیاں نہیں ؟ پھر اور سنو وہ یتیم بچہ جو اپنے بڑے وسیع گھرانے میں اکیلا چھوڑا گیا تھا آج اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود کے حلقہ بگوشوں میں شمار کرتا ہے اور یہی وہ خدائی تعویذ ہے جس نے اسے تباہی سے بچا رکھا ہے۔اب رہا یہ سوال کہ محمدی بیگم کا خاوند مرزا سلطان محمد کیوں میعاد کے اندر نہیں مرا اور اب تک بقید حیات ہے۔سو جاننا چاہیے کہ وہی قدرت الہی جس نے مرزا احمد بیگ کو ہلاک کیا، مرزا سلطان محمد کے بچانے کا موجب ہوئی۔محمدی بیگم کے نکاح سے پہلے اور نکاح کے وقت جو حالات تھے وہ اس بات کے مقتضی تھے کہ قدرت الہی عذاب کے رنگ میں ظاہر ہو۔لیکن جب پیشگوئی کے نتیجہ میں مرزا احمد بیگ کی بے وقت موت نے مرزا سلطان محمد کے خاندان میں ایک تہلکہ مچادیا اور یہ لوگ سخت خوف زدہ ہو کر حضرت مسیح موعود کی طرف معجز و انکسار کے ساتھ جھکے اور آپ سے دعا کی درخواستیں کیں تو اب سنت الله وما كَانَ اللهُ مُعَدِّ بَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ (الانفال : ۳۴) کے مطابق قدرت نمائی مرزا سلطان محمد کے : ہلاک کئے جانے کے ساتھ نہیں بلکہ بچائے جانے کے ساتھ وابستہ ہوگئی۔خود مرزا سلطان محمد کا رویہ مرزا احمد بیگ کی موت سے لے کر آج تک حضرت مسیح موعود کے ساتھ بہت مخلصانہ رہا ہے۔چنانچہ انہوں نے کئی