سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 170 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 170

سیرت المہدی 170 حصہ اوّل نے جس طرح اپنے دلی خوف اور گھبراہٹ اور بے چینی کا اظہار کیا اس کی کیفیت حضرت مسیح موعود کی تصانیف میں مختصراً آچکی ہے۔اس کا اپنا بیان ہے کہ کبھی اس کو سانپ نظر آتے جو اس کو ڈسنے کو بھاگتے۔کبھی اس پر کتے حملہ کرتے۔کبھی تنگی تلواروں والے اس کو آ آ کر ڈراتے اور وہ ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف بھاگتا پھرتا تھا۔اور عموماً پولیس کا خاص پہرہ اپنے ساتھ رکھتا تھا اور اسلام کے خلاف اس نے اپنی تحریروتقریر کو روک دیا تھا۔حتی کہ جب میعاد ختم ہونے کے قریب آئی تو اس کا خوف اس قدر ترقی کر گیا کہ پادریوں کو اسے سخت شراب پلا پلا کر بدمست کرنا پڑا۔کیا یہ باتیں اس بات کی علامت نہیں کہ خدائی پیشگوئی کا خوف اس کے دل پر غالب ہو گیا تھا۔اور وہ اپنے آپ کو اس عذاب سے بچانا چاہتا تھا۔پس خدا نے پیشگوئی کی شرط کے مطابق اسے عذاب موت سے بچالیا۔اور ہمارے مخالف مولویوں کا یہ کہنا کہ آتھم کا ڈر پیشگوئی کے خوف کی وجہ سے نہ تھا۔بلکہ اس لئے تھا کہ کہیں احمدی اسے قتل نہ کر دیں اور اسی وجہ سے وہ اپنی جان کی حفاظت کرتا تھا۔ایک نہایت اہلہانہ خیال ہے۔کیونکہ دشمن کی طرف سے کسی سازش وغیرہ کا خوف کرنا اور اس کے مقابل میں احتیاطی تجاویز عمل میں لانا ایک اور بات ہے۔مگر جس قسم کا خوف آتھم نے ظاہر کیا وہ ایک بالکل ہی اور چیز ہے۔ہم کو دونوں قسم کے خوفوں کی نوعیت پر غور کرنا چاہیے اور پھر رائے لگانی چاہیے کہ جس قسم کا خوف اور بے چینی آتھم نے ظاہر کی آیا وہ دشمن کی شرارت سے خوف کر کے احتیاطی تجاویز عمل میں لانے والی قسم میں داخل ہے یا پیشگوئی سے مرعوب ہو کر بدحواس ہو جانے والے خوف میں داخل ہے۔ہم یقین کرتے ہیں کہ جو شخص تعصب سے الگ ہو کر میعاد کے اندر آتھم کے حالات پر غور کرے گا وہ اس بات کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوگا کہ جس قسم کے خوف کا آتھم نے اظہار کیا وہ دشمن سے بچنے والا خوف ہرگز نہیں تھا بلکہ اور قسم کا خوف تھا۔پس جاہل لوگوں کی طرح صرف یہ پکارتے رہنا کہ ہر آدمی دشمن کی شرارت سے بچنے کیلئے خوف کرتا ہے اس لئے اگر آتھم نے خوف کا اظہار کیا تو کیا ہوا۔یا تو پرلے درجہ کی جہالت اور بے وقوفی ہے اور یا دیدہ دانستہ مخلوق خدا کو دھوکا دینا ہے۔اور اس جگہ یہ بھی یادرکھنا چاہئے کہ نظام عالم خدا کی دو صفات پر چل رہا ہے اور درحقیقت ہر ایک حکومت ان دو صفتوں پر ہی چلتی ہے۔ایک صفت علم ہے اور ایک صفت قدرت۔اور جتنی جتنی یہ صفات