سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 167 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 167

سیرت المہدی 167 حصہ اوّل اگر تو نے کبھی کوئی نیکی کی ہے تو بتا مگر وہ نہیں بتا سکے گا، اس پر اللہ فرمائے گا اچھا تو کیا تو کبھی کسی بزرگ شخص سے ملا تھا ؟ وہ جواب دیگا نہیں۔اس پر خدا فرمائے گا اچھی طرح یاد کر کے جواب دے اس پر وہ بولے گا۔کہ ہاں ایک دفعہ میں ایک گلی میں سے گذر رہا تھا تو میرے پاس سے ایک شخص گذرا تھا جس کو لوگ بزرگ کہتے تھے۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔جا میں نے تجھے اسی وجہ سے بخش دیا۔میاں عبداللہ صاحب کہتے ہیں کہ حضرت صاحب نے ایک وقت یہ بھی فرمایا تھا کہ جوشخص کسی کامل کے پیچھے نماز پڑھتا ہے تو پیشتر اس کے کہ وہ سجدہ سے اپنا سر اُٹھاوے۔اللہ اسکے گناہ بخش دیتا ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ کوئی منتر جنتر نہیں اخلاص اور صحت نیت شرط ہے۔( یہ روایت زیادہ تفصیل کے ساتھ حصہ دوم کی روایت نمبر 425 میں بھی بیان ہوئی ہے۔) 170 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ ایک شخص آیا اور اس نے حضرت صاحب سے دریافت کیا کہ کیا آپ واقعی مسیح اور مہدی ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں میں واقعی مسیح اور مہدی ہوں اور آپ نے ایسے انداز سے یہ جواب دیا کہ وہ شخص پھڑک گیا اور اسی وقت بیعت میں داخل ہو گیا اور میرے دل پر بھی حضرت صاحب کے اس جواب کا بہت اثر ہوا۔171 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب نے فرمایا کہ دو بیویاں کر کے انسان درویش ہو جاتا ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ واقعی اگر ان شروط کوملحوظ رکھا جاوے جو اسلام ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے والے کیلئے واجب قرار دیتا ہے تو دو یا اس سے زیادہ بیویاں عیش و عشرت کا ذریعہ ہر گز نہیں بن سکتیں بلکہ یہ ایک قربانی ہے جو خاص حالات میں انسان کو کرنی پڑتی ہے۔172 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ یہ ذکر تھا کہ یہ جو چہلم کی رسم ہے یعنی مردے کے مرنے سے چالیسویں دن کھانا کھلا کر تقسیم کرتے ہیں غیر مقلد اس کے بہت مخالف ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر کھانا کھلانا ہو تو کسی اور دن کھلا دیا جائے۔اس پر حضرت نے فرمایا کہ