سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 162 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 162

سیرت المہدی 162 حصہ اوّل چونکہ قانون شریعت کا نفاذ خود بندے کے ہاتھ میں ہے وہ اپنے لئے بہت سی سہولتیں پیدا کر لیتا ہے اور اس طرح اس کی ظاہری تکلیف سے بچ جاتا ہے۔لیکن قضا و قدر کا قانون خدا نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے اور بندے کا اس میں کچھ اختیار نہیں رکھا۔پس جب قضا و قدر کے قانون کی چوٹ بندے کو آکر لگتی ہے اور وہ اس کو خدا کے لئے برداشت کرتا ہے اور صبر سے کام لیتا ہے اور خدا کی قضا پر راضی ہوتا ہے تو پھر وہ اس ایک آن میں اتنی ترقی کر جاتا ہے جتنی کہ چالیس سال کے نماز روزے سے بھی نہیں کر سکتا تھا۔پس مومن کے لئے ایسے دن در حقیقت ایک لحاظ سے بڑی خوشی کے دن ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ شیخ عبدالرحمن صاحب مصری نے بھی یہ روایت بیان کی تھی۔159 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ حضرت صاحب بعض اوقات کسی بزرگ کا واقعہ سنایا کرتے تھے کہ ان کا کوئی لڑکا فوت ہو گیا اور لوگوں نے ان کو آکر اطلاع دی تو انہوں نے کہا سگ بچہ مُرد دفن بکنید۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ خاص حالت کی باتیں ہیں۔انبیاء جنھوں نے لوگوں کیلئے اسوہ حسنہ بنا ہوتا ہے اور حقوق العباد کی بھی بہترین مثال قائم کرنی ہوتی ہے۔عموماً ایسا طریق اختیار نہیں کرتے۔160 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ جب آٹھم کی میعاد میں صرف ایک دن باقی رہ گیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھ سے اور میاں حامد علی مرحوم سے فرمایا کہ اتنے چنے ( مجھے تعداد یاد نہیں رہی کہ کتنے چنے آپ نے بتائے تھے ) لے لو اور ان پر فلاں سورۃ کا وظیفہ اتنی تعداد میں پڑھو ( مجھے وظیفہ کی تعداد بھی یاد نہیں رہی )۔میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ مجھے وہ سورۃ یاد نہیں رہی مگر اتنا یاد ہے کہ وہ کوئی چھوٹی سی سورۃ تھی۔جیسے اَلَمْ تَرَكَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الفيل الفيل: ۲) ہے الخ۔اور ہم نے یہ وظیفہ قریباً ساری رات صرف کر کے ختم کیا تھا۔وظیفہ ختم کرنے پر ہم وہ دانے حضرت صاحب کے پاس لے گئے کیونکہ آپ نے ارشادفرمایا تھا کہ وظیفہ ختم ہونے پر یہ دانے میرے پاس لے آنا۔اس کے بعد حضرت صاحب ہم دونوں کو قادیان سے باہر غالباً شمال کی طرف لے گئے اور فرمایا یہ دانے کسی غیر آباد کنوئیں میں ڈالے جائیں گے۔اور فرمایا کہ جب میں دانے کنوئیں میں