سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 154
سیرت المہدی 154 حصہ اوّل بھی یہی حال ہے جب وہ وقت آئے گا کہ حضرت مسیح موعود کے صحابہ گزرجائیں گے تو پھر ان کا اخلاص اور ان کی قربانیاں چمکیں گی اور وہی یا درہ جائیں گی اور کمزوریاں مٹ جائیں گی اور ہم خود اس بات کو عمل محسوس کر رہے ہیں کیونکہ جو احباب ہمارے فوت ہو چکے ہیں ان کی خوبیاں ہمارے اندر زیادہ گہرا نقش پیدا کر رہی ہیں۔بمقابلہ ان کے جو بقید حیات ہیں اسی طرح گزرے ہوئے دوستوں کی کمزوریاں ہمارے ذہنوں میں کم نقش پیدا کرتی ہیں بمقابلہ ان کے جو ہم میں زندہ موجود ہیں۔اور تاریخ کے مطالعہ سے پتہ لگتا ہے کہ صحابہ میں بھی یہی احساس تھا۔ساتویں وجہ یہ ہے کہ لوگ عموماً اس بات کو نہیں سمجھتے کہ انفرادی اصلاح اور جماعت کی اجتماعی اصلاح میں فرق ہے اور دونوں کا معیار جدا ہے۔کسی جماعت کو اصلاح یافتہ قرار دینے کے لئے یہ ضروری نہیں ہوتا کہ اس کے سارے افراد اصلاح یافتہ ہوں بلکہ جس قوم کے اکثر افراد نے اپنے اندر تبدیلی کی ہے اور اپنے اندر ایمان اور صلاحیت کا نور پیدا کیا ہے وہ اصلاح یافتہ کہلائے گی خواہ اس کے بعض افراد میں اصلاح نظر نہ آئے۔اسی طرح یہ بھی ضروری نہیں ہوتا کہ کسی جماعت کے اصلاح یافتہ افراد سب کے سب ایک درجہ صلاحیت پر قائم ہوں بلکہ مدارج کا ہونا بھی متفق ہے۔لہذا بحیثیت مجموعی جماعت کی حالت کو دیکھنا چاہئیے اور پھر یہ بھی یا درکھنا چاہئیے کہ مختلف افراد کے فطری قومی اور فطری استعداد میں الگ الگ ہوتی ہیں پس سب سے ایک جیسی اصلاح متوقع نہیں ہو سکتی اور نہ کسی جماعت میں ہم کو اس کے سب افراد ایک جیسے نظر آتے ہیں۔لہذا ہمارا معیار یہ ہونا چاہیے۔کہ ایک انسانی جماعت سے جس میں ہر قسم کے لوگ شامل ہیں بحیثیت مجموعی کس درجہ کی اصلاح کی توقع رکھی جاسکتی ہے اور اس لحاظ سے حضرت مسیح موعود کی جماعت کا قدم بہت بلند نظر آتا ہے۔آٹھویں وجہ یہ ہے کہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کمزور لوگ خواہ جماعت میں بہت ہی تھوڑے ہوں مگر زیادہ نظر آتے ہیں کیونکہ بدی آنکھ میں کھٹکتی ہے اور نیکی بوجہ لطافت کے سوائے لطیف حس کے عموما محسوس نہیں ہوتی۔میں نے دیکھا ہے کہ ہزاروں میں اگر پانچ دس بھی شریر ہوں تو عموما لوگوں کو ایسا نظر آتا ہے کہ گویا اکثر شریر ہی ہیں اور بھلے مانس کم ہیں کیونکہ شریر اپنی شرارت کی وجہ سے نمایاں ہو جاتا ہے اور اس کی طرف لوگوں کی